icon/64x64/nature حیاتی ماحول

پاکستان کی نظر دنیا کے پہلے ‘نیچرپرفارمنس بانڈ’ پر ہے

کیا قرض سے نجات کی ترغیب ترقی پذیر ممالک کو فطرت اور آب و ہوا کے اہداف کے حصول کے لئے مزید کام کی طرف حوصلہ افزائی کر سکتی ہے؟
عمران خان ، وزیر اعظم پاکستان ، (وسط میں ) مئی 2021 میں 10 ارب درخت سونامی پروگرام کے تحت درخت لگا کر واپس آرہے ہیں (  تصویر بشکریہ ژنہوا / الامی)
عمران خان ، وزیر اعظم پاکستان ، (وسط میں ) مئی 2021 میں 10 ارب درخت سونامی پروگرام کے تحت درخت لگا کر واپس آرہے ہیں ( تصویر بشکریہ ژنہوا / الامی)

جیساکہ وبائی امراض کے  سبب دنیا بھر میں زندگیوں  اورروزگار  کو خطرہ لاحق ہے ، ترقی پذیر ممالک اس کے بدترین معاشی نتائج کے دہانے پر ہیں۔ صحت کے بحران نے معیشتوں کو ہلا کے رکھ  دیا ہے اور ملکی  قرضوں کے بحرانوں کو جنم دیا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ اب زیادہ ترقی پذیر معیشتیں قرضوں کی زد میں ہیں۔

حال ہی میں “قرضوں کی وبا ” کی اصطلاح ابھری جو کہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لئے کس طرح جدوجہد کریں گے۔

لگ بھگ 600 بلین امریکی ڈالر خطرے میں ہیں

دی تھرڈ پول کو اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام نے بتایا کہ ایک تخمینے کے مطابق 2021-2525 تک 72 ممالک میں بیرونی پبلک قرض خدمات کی ادائیگیوں میں سے کم از کم 598 بلین امریکی ڈالر (غیر ملکی قرض دہندگان سے قرض لینے کی قیمت) خطرے میں ہے- یہ سویڈن کی جی ڈی پی سے زیادہ ہے- نجی قرض دہندگان311 ارب ڈالر  کے مقروض ہیں۔

جب بات  ملکی قرضوں  تلے دبے ممالک کی ہو تو پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس کا ملکی  قرض 38 کھرب پاکستانی روپے  (تقریبا 240 بلین امریکی ڈالر) ہے جو اس ملک کے لئے سر بہ فلک اعداد ہیں جہاں ہر فرد کی سالانہ آمدنی 1،542.5 امریکی ڈالر ہے۔

پاکستان کی وبائی مرض  سے بحالی کی صلاحیت قرضہ جات(اصل قرض اور سود کی ادائیگی) کی وجہ سے مزید کم ہوگئی ہے ، جس نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک کی مجموعی آمدنی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہڑپ کر لیا ہے۔

لیکن پاکستان اس بحران سے نکلنے کے لئے ایک ایسے  حل  کی امید کرتا ہے جس کی جڑیں آب و ہوا کے بحران میں پیوست ہوں یعنی حساس ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات پر قرضہ جات سے نجات حاصل کرنا۔ 

اس کا مقصد کے لئے قرض کے متبادل فطرت اور اپنے نوعیت کے پہلے نیچر  پرفارمنس بانڈ (این پی بی) کا استعمال کرنا چاہتا ہے- 

“ہم قرض کے تبادلہ کے ساتھ ساتھ نیچر پرفارمنس بانڈ پر بھی کام کر رہے ہیں ،” موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم نے دی تھرڈ پول کو بتایا۔

قرض کے لئے فطرت پر مبنی حل؟

فنانس فار بائیو ڈائیویورائزیشن انیشی ایٹو (ایف 4 بی) کےتحت  ڈیزائن کیا گیا، جو حیاتیاتی تنوع کو مالی فیصلہ سازی میں اہمیت دینے کی کوشش کرتا ہے ، پاکستان کا نیچر پرفارمنس بانڈ فطرت سے متعلق  اہداف کو پورا کرنے کے پابند ہوگا۔ 

اس اسکیم کے تحت ، ایک قرض دہندہ ملک حیاتیاتی تنوع اور فطرت کی بحالی کے اہداف حاصل کرلینے پر ، نئے جاری کردہ قرض کا کچھ منہا کرسکتا ہے ، یا ادائیگی کے سود کی شرحوں میں کمی کرسکتا ہے۔ 
اسلم نے مئی میں صاف توانائی منصوبوں کے لئے 500 ملین ڈالر طلب کرنے والے پاکستان کے پہلے گرین  بانڈوں کے بارے میں “زبردست” ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، “ہم [این پی بی کے تحت] فطرت پر مبنی بانڈوں میں ایک ارب ڈالر کا ہدف بنا رہے ہیں۔”

Sand cat, also referred to as the "sand dune cat", is a small wild cat distributed over African and Asian deserts
سینڈ کیٹ  پاکستان کے صحرائی علاقوں سمیت بنجر علاقوں میں رہتی ہے  – ’نیچر پرفارمنس بانڈ‘ کے تحت ،بائیو ڈائیورسٹی کے تحفظ کے بدلے میں پاکستان کو فنانس مل سکتا ہے- (تصویر بشکریہ رچرڈ ہیگنس / الا می)

یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ  پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کو این پی بی بانڈ کے ڈیزائن میں تکنیکی مدد فراہم کررہے ہیں ، جس پر کینیڈا ، جرمنی اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ گفتگو  میں حصہ لیں گے۔ 

یو این ڈی پی پاکستان کے ترجمان نے کہا ، “ہم حکومت پاکستان کی دنیا کے  پہلے  این پی بی بنانے کے لئے جاری کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ان کی تائید کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا: “این بی پیز  پاکستان کو ترقی کے لئے مالی اعانت تک تیز رسائی فراہم کرنے کا ایک راستہ ہے – جو سی او پی 26 کے ایجنڈے میں بھی اہم حیثیت رکھتا  ہے ، جس کی مشترکہ  صدارت برطانیہ اور اٹلی  کررہے ہیں۔”

پاکستان ، 220 ملین آبادی والا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے ، جو عالمی کاربن کے اخراج میں 1٪ سے بھی کم کا ذمہ دار ہے لیکن وہ سب سے زیادہ آب و ہوا سے متاثرہ  10ممالک میں شامل ہے۔ 

اس حقیقت نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ امیر ممالک سے موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ممالک کو مالی اعانت دینے کے لئے کہیں۔ 

“ہمارا مقصد اور امید ہے کہ  اس سال اکتوبر میں ورلڈ بینک-آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں پہلے  این پی بی کے لئے کسی معاہدے کا اعلان کریں گے۔” 

 فنانس فار بائیو ڈائیورسٹی انیشیٹو  کے لئے ایک سفیر ، مارک ہیل نے سوئٹزرلینڈ سےدی تھرڈ پول کو بتایا۔ ہیلے کے مطابق ، اٹلی اور چین جلد ہی مذاکرات کے لئے  آئیں گے ، اور سی او پی 26 میں پاکستان کے بانڈ حقیقت بنیں  گے۔

ہیلی نے کہا کہ پاکستان کے 10 ارب درخت سونامی منصوبے ، 15 قومی پارکوں کی بحالی اور مینگروو کی نشونما کی  کوششیں اہداف کی فہرست میں شامل ہیں۔

 ہیلے نے کہا کہ سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے ، تیسری پارٹی کے جائزہ کاروں کے متواتر دوروں اور مقامی برادریوں سے ملاقاتوں کے ذریعے کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ پروگراموں کو “معاہدے کے مطابق” لاگو کیا جاتا ہے اور مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔

جنگل کاری کے ذریعہ کاربن تسلسل پر قابو پانے کا چیلنج

درخت لگانے کے ذریعہ کاربن آفسیٹنگ کے تصور کو متعدد مسائل کمزور کرتے ہیں۔
ایک ہیکٹر جنگل اصل میں  کتنا کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرسکتا ہے اس کی پیمائش کرنے کے ایک واضح میٹرک کی کمی-
سب سے بڑے درخت سب سے زیادہ کاربن کو جذب کرتے ہیں ، لہذا ابھی  لگائے گئے درختوں کو مؤثر ہونے میں کافی وقت لگے گا
جنگلات کی تشکیل سے  بڑا فرق پڑتا  ہے۔ مونوکلچر کے باغات حیاتیاتی تنوع کے لئے  ناقص ہیں اور کم کاربن جذب کرتے ہیں
نامناسب مقامات پر کاشت کاری موجودہ ماحولیاتی نظام جیسے صحرا ، سوانا اور گھاس کے میدانوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
زمین کا حصول: شجر کاری  کے لئے جگہ بنانے میں  اکثر لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں
ناقص منصوبہ بندی اور جلد بازی میں کیے گے  منصوبوں سے گرین ہاؤس گیس کے اخراج  میں اضافہ ہوسکتا ہے اور لوگوں اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچ سکتا ہے

اہداف کے حصول کے بعد ، پاکستان بقیہ رقم قرض دھندہ کے ساتھ طے کردہ مذاکرات کے  مطابق جہاں ضروری ہے خرچ کرسکتا ہے۔ ہیلے نے کہا ، “میرا اندازہ  ہے کہ یہ توقع کی جارہی ہے  کہ وہ اسے ضائع نہیں کریں گے یا اسے فوجی سرگرمیوں پر خرچ نہیں کریں گے۔” 

پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 124 ویں نمبر پر ہے۔ یہ محدود وسائل کے باوجود دفاع پر بھی بہت زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اس نے 2021-22 مالی سال کے دوران دفاعی خدمات کے لئے 1.37 ٹریلین روپے مختص کیے ہیں ، جو 6.2٪ کا اضافہ ہے۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے 10 بلین ٹری سونامی منصوبے سے 85000  گرین نوکریاں  پیدا ہوئی ہیں، اور آنے والے برسوں میں مزید 200،000 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ 

پاکستان کے لئے مجوزہ فطرت پرفارمنس بانڈ کو حکومت نے سراہا ہے ، خاص طور پر ملک چونکہ غیر ملکی قرضوں پر بھاری انحصار کرتا ہے- 31 مارچ 2021 ء تک پاکستان کا بیرونی واجبات  اور قرضوں کی مالیت 116 ارب ڈالر تھی۔ جبکہ امیر قرض دہندگان والے ممالک کے پیرس کلب کا یہ 10 ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ 

ماہرین شاکی ہیں

آب و ہوا کے رسک مینجمنٹ کے ماہر علی توقیر شیخ نے کہا ، “یہ باتیں پیسوں کے سوا کسی اور چیز کے لئے کچھ نہیں ہو رہی ہیں۔”

شیخ نے کہا کہ حکومت “ماحولیاتی فوائد سے زیادہ قرض ریلیف سے  متعلق شور کر رہی ہے”۔ 

شیخ نے کہا ، ” این پی بی   بائیو ڈائیورسٹی ، آب و ہوا کی تبدیلی ، اخراج یا کاربن کے تسلسل  کے بارے میں نہیں  پیسوں کے بارے میں ہے۔” 

ترجمان یو این ڈی پی پاکستان نے کہا: “این پی بی میں بڑے پیمانے پر قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے اور معاشرے اور معیشت کو مختلف قسم کے جھٹکے جیسے مستقبل میں وبائی امراض اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات  سے متعلق لچک میں اضافہ  کی صلاحیت موجود ہے۔ ” 

شیخ کے بقول ، پاکستان کےنیچر پرفارمنس بانڈ کا ایک اور پہلو ، ترقی یافتہ ممالک کے لئے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی دباؤ کو رد کریں  اور آب و ہوا میں تبدیلی اور بائیو ڈائیورسٹی  پر اپنا امیج بہتر کرسکیں۔ 

انہوں نے کہا ،” ترقی یافتہ ممالک یہ دیکھانا چاہتے ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس سے اندرونی  خدشات کو حل کرنے اور موسمیات پر خرچ کرنے کے وعدوں کو پورا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔”

مثال کے طور پر ، پاکستانی 10 بلین ٹری سونامی کے تحت درخت لگانے کو ماحولیاتی نظام کی تباہی کے حل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ “یہ ماحولیاتی نظام کے حوالے سے خام خیالی ہے -” 

مثبت پہلو یہ، انہوں نے کہا کہ ” حکومت نے کم از کم اس مسئلے کو پیش تو کیا ہے”۔

گرین فنانسنگ کے لئے زور

قرضوں کے تبادلے کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ 1985 اور 2015 کے درمیان ، 30 سے زائد ممالک کے درمیان اس طرح کے معاہدے ہوئے ، جن کی  مشترکہ مالیت 2.6 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ 2009 میں ، پاکستان نے اٹلی کے ساتھ قرضوں کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کیے ، جس میں زراعت ، صحت ، تعلیم اور ماحولیاتی منصوبوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 

کوویڈ 19وباء کے بعد سے ، گرین فنانسنگ کے لئے  نیا زور لگایا جارہا ہے ، عمران خان نے دولت مند ممالک کو مزید کچھ کرنے کی اپیل کی ہے۔

آب و ہوا اور بائیو ڈائیورسٹی کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے طویل سفر طے کرنا ہے

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ گلوبل وارمنگ سے  نمٹنے کے لئے پوری کوشش کر رہا ہے ، جس میں 2030 تک 60 فیصد صاف توانائی اور 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں کی طرف منتقلی کا ارادہ ہے۔ 

پاکستان کے موجودہ توانائی مکس جو فوسل ایندھن پر کافی انحصار کرتے ہیں کو دیکھتے ہوئے یہ اہداف بلند نظر معلوم ہوتے ہیں ۔

کوئلے اور قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار 59.42 فیصد ہے ، جو 2020 مالی سال کے دوران 58.43 فیصد تھی۔

شیخ نے نشاندہی کی کہ پاکستان بجلی کی پیداوار کے لئے فوسل ایندھن کا سب سے بڑا اعانت کار  ہے اور “2030 اہداف کو ٹھوس قابل پیمائش  اقدامات کی مدد حاصل نہیں۔”

اسلم نے کہا کہ ان کی حکومت 2030 کے اہداف حاصل کرے گی کیونکہ اگلے 10 سالوں میں 10 نئے ڈیم شروع ہونا متوقع ہیں جو  توانائی میں قدرتی ایندھن کی مقدار کو کم کردیں گے۔ 

“جب منصوبہ بندی کی بات کی جاتی ہے تو پاکستان بہت سوں سے آگے ہے ، لیکن منصوبوں پر عمل درآمد ایک چیلنج ہے،” پاکستان میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے لئے ملک کے نمائندے ، محمود اختر چیمہ نے  دی تھرڈ پول کو بتایا۔ 

انہوں نے کہا کہ نباتات صرف 5.2 فیصد پاکستان کا احاطہ کرتا ہے ، اور ملک کو اپنے ہدف کو پورا کرنے کے لئے بہت طویل سفر طے کرنا ہے: اس نے اپنے وعدہ کردہ 10 ارب میں سے ابھی تک ایک ارب درخت لگائے ہیں۔ چیمہ نے کہا ، ملک کو بڑے پیمانے پر چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے جو مجوزہ بانڈ حاصل کرنے میں مدد کرے گا۔

چیمہ نے مزید کہا کہ اس سے قبل ملک نے اقدامات اور منصوبوں کے تسلسل اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے جدوجہد کی ہے۔ 

شیخ نے کہا ، “وزیر اعظم خان کا امتحان درخت لگانا نہیں ہے ، بلکہ کاربن کے تسلسل کا ایک فارمولا دینا ہے اور اپنے ممکنہ جانشینوں سے مذاکرات  کرکے اس کی پائیداری اور تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔”