icon/64x64/nature حیاتی ماحول

پاکستانی خواتین پہاڑی علاقوں میں امدادی ٹیموں کے شانہ بشانہ ہیں

پاکستان کے پہاڑی دیہاتوں میں خواتین تباہی سے نمٹنے کا مرکزی کردار ہیں اور دوسری خواتین کی جان بچانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہی ہیں-
چترال میں برفانی تودے سے بچاؤ کی تربیت [تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی]
چترال میں برفانی تودے سے بچاؤ کی تربیت [تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی]

شمیم بانو ، ایک مڈل اسکول کی ٹیچر ہیں اور حال ہی میں کابل میں پندرہ دن گزار کر واپس آئی ہیں جہاں انہوں نے افغان خواتین کو تلاش اور بچاؤ (ریسکیو ) کے طریقے سکھائے۔ 

اس تربیت میں ”  رسیوں اور ہارنسنز کا استعمال کرتے ہوئے پہاڑوں اور گھاٹیوں پرچڑھنے ، زپ لائنوں اور ریپلنگ کا استعمال سکھایا گیا۔ کوئی غلط قدم اور آپ چٹان سے نیچے گر سکتے ہیں ،” انہوں نے بتایا- 

انہوں نے مزید کہا ، “ہڈیوں ، سر ، گردن اور کمر کی چوٹوں کے ساتھ” شدید ہلاکتوں سے نمٹنا بھی اس تربیت کا حصہ تھا۔ 

ایک بچی کی حیثیت سے بانو ریسکیو کے کاموں میں حجاب (پردہ) کی رکاوٹ سےکافی پریشان تھیں- انہوں نے کہا ،” آفات کے دوران مردوں کے لئے پردہ دار خواتین کو بچانا  عجیب لگتا تھا نتیجتاً انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا-”  

2008 میں ، انہیں تلاش اور بچاؤ کی رضاکار بننے کا موقع ملا۔ بحیثیت ایک ٹرینر ، وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے ماہانہ ڈرل میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔

CPR training [image courtesy: AKAH-P]
سی پی آر کی تربیت ( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

خطرات بہت ہیں

بانو پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان میں رہتی ہیں، ایسی جگہ جہاں دنیا کے تین بلند ترین پہاڑی سلسلے اکٹھے موجود ہیں – ہندوکش ، قراقرم سلسلہ اور ہمالیہ۔  اس میں، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے 2 سمیت ،  50 پہاڑی چوٹیاں شامل ہیں جو 7،000 میٹر سے زیادہ ہے ، اور پانچ جو 8،000 میٹر سے تجاوز کرتی ہیں۔ طاقتور پہاڑی ندیاں، بشمول ہنزہ اور گلگت کے خطے میں سے گزرتی ہیں، اور یہاں سیکڑوں گلیشیر بھی ہیں۔ 

Shimsal glacier [image courtesy: AKAH-P]
شمسل گلیشیر -(صویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی)

لیکن یہ شاندار زمینی تزئین عموماً زلزلوں، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈ اور گلیشیر جھیلوں کے سیلابوں سے متاثر رہتا ہے جو یہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں کو ہلا کررکھ دیتا ہے- 

پاکستان کے پہاڑوں میں تباہی ، 2010۔2020  

بدلتی آب و ہوا 

آغا خان ایجنسی برائے ہیبی ٹیٹ ، پاکستان (اے کے اے ایچ-پی) میں ایمرجنسی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سلمان الدین شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں گلگت بلتستان کی کمیونٹیز شامل ہیں-  

بانو 50،000 رضاکاروں (ان میں سے نصف خواتین) میں سے ایک ہیں، جنہیں اے کے اے ایچ-پی نے 1998 میں فوکس پاکستان کی بنیاد رکھے جانے کے بعد سے کمیونٹی پر مبنی ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (سی بی ڈی آر ایم) میں تربیت دی ہے- 

شاہ نے کہا کہ دیگر کمیونٹیز جو تباہی کے خطرات کا سامنا کررہی ہیں وہ صوبہ خیبر پختون خوا کے پہاڑی چترال اور صوبہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں ہیں۔

اے کے اے ایچ کے افغانستان کے  پہاڑی علاقوں، تاجکستان ، شام اور برصغیر پاک و ہند کے ساحلی میدانی علاقوں میں بھی دفاتر ہیں۔

 اے کے اے ایچ-پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نواب علی خان نے کہا ، “حالیہ برسوں میں گلیشیرز سرکنے میں اضافے اور جی ایل او ایف کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے حال ہی وادئ ہنزہ میں دو گلیشیر سرکنے کے واقعات کا حوالہ دیا — شمشال میں خروڈپین گلیشیر اور حسن آباد میں ششپر۔ 

“دونوں گلیشیر میلوں تک وادیوں  کو روک کر اندر تک چلے  گۓ اور نتیجتاً مصنوعی جھیلیں بن  گئیں- اسی طرح ضلع خضر میں بادسوات گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے سے اور خضر دریا کے رکنے سے  پورا گاؤں بادسوات  ڈوب گیا، ” انہوں نے کہا – 

Rappelling training [image courtesy: AKAH-P]
Rappelling training [image courtesy: AKAH-P]

پاکستان کے موسمیاتی خطرے سے دوچار زون (علاقوں) کی 777 بستیوں  میں سے خان کا کہنا ہے کہ 40% متعدد قدرتی خطرات کی زد میں ہیں جن میں پہاڑی کمیونٹیز سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں- 

خان نے کہا، آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے ہونے والی ماحولیاتی تنزلی نے پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو درپیش تباہی کے خطرات کو بڑھا دیا ہے جوکہ ” غریب ترین ، پسماندہ اور دنیا سے الگ تھلگ” آبادیوں میں سے ہیں-

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے انوائرنمنٹ اینڈ کلائمیٹ کمیٹی کے چیئر، رحیم آغا خان کہتے ہیں، ” دہائیوں سے اے کے ڈی این غیر محفوظ کمیونٹیز کے ساتھ کام کررہی ہے تاکہ زندگیاں بہتر کی جاسکیں اور خطرات کم کیے جاسکیں- آج آب و ہوا کے بحران کے سامنے ان خطرات کو سمجھنا اور ان سے نمٹنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے- ان کمیونٹیوں کو اپنی غیر محفوظ رہائش گاہوں کے ساتھ ہم آہنگی میں ڈھالنے اور پروان چڑھنے میں مدد کر کے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کی امید کرسکتے-” 

 اے کے اے ایچ-پی کو ٹیکنالوجی اور مقامی علوم کو مربوط کرنے کے طریقہ کار اورکمیونٹی کی سطح پر ترقیاتی کاموں اور آفاتی خطرات سے نمٹنے کے مابین “نایاب” سطح کے انضمام کے لئے پرگولڈ 2020 ورلڈ ہیبی ٹیٹ ایوارڈ ملا – وہ ماہر ارضیات ، سیٹلائٹ امیجری اور رسک میپنگ ٹولز کو مقامی کمیونٹیز کے ساتھ اکٹھا کرتے ہیں تاکہ مقامی ہیزرڈ اور ولنربیلیٹیی رسک اسسمنٹ  (ایچ وی آر اے) تشکیل دیا جاسکےجو زمین کے استعمال کی بہترین شکلوں اور تعمیر کے لئے محفوظ مقامات کی نشاندہی کرسکیں- 

اس نے 2004 سے اب تک 785 بستیوں میں ایچ وی آر اے انجام دیئے ہیں ، جن میں زیادہ تر گلگت بلتستان اور چترال میں ہیں۔ اس کام میں متعدد طرح کے رضاکار شامل ہیں ، کیونکہ وہ پناہ گاہیں بناتے ہیں ، کمیونٹی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے منصوبے تیار کرتے ہیں اور موسم کی نگرانی کے پوسٹس اور کمیونٹی پر مبنی ابتدائی

زندگی بچانے والے

خان نے کہا ، “کمیونٹیز ہمارے کام کا بنیادی مرکز ہیں اور ان کی کامیابی کی کلید ان کے رضاکار ہیں۔” خواتین رضاکاروں کی وقف ٹیمیں کمیونٹیز کے ساتھ موثر طریقے سے کام کرنے کا ایک اہم حصہ ہیں ، حالانکہ مرد اور خواتین کو ایک ساتھ تربیت دی جاتی ہے ، کریم آباد کی 40 سالہ نرس بی بی نصرت نے بتایا ، جو 2000 سے  اے کے اے ایچ-پی کے چترال آفس میں سی بی ڈی آر ایم ٹریننگ آفیسر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔ وہ آفات سے دوچار دیہاتوں کا دورہ کرتی ہیں تاکہ کمیونٹیز کو اپنی حفاظت کیسے کی جائے سکھا سکیں- 2020 میں ، انہوں نے چترال کے 150 برفانی تودے سے متاثرہ دیہاتوں میں سے 15 کا دورہ کیا۔ 

بانو کی طرح ، نصرت نے بھی خواتین کو ان ٹیموں کا بنیادی جزو ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔ “میرے خیال میں خواتین کو ریسکیو ٹیم میں شامل ہونا ضروری ہے کیوں کہ تباہی کے وقت  ممکن ہے خاندانوں کے مرد  وہاں نہ ہوں اور مقامی لوگوں کے لئے ثقافتی حساسیت اور پردہ کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔” 

پردہ کے سبھی حامی یہ نہیں مانتے ہیں کہ کسی آفت کے وقت اس کا اطلاق ہونا چاہئے۔ نصرت کے گاؤں سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ نواز خان پردہ کے سخت پیروکار ہیں وہ کہتے ہیں ، “اگر کوئی اجنبی آدمی میرے خاندان کی خواتین کو بچا لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔”

بدقسمتی سے بعض اوقات اس طرح کے خیالات  شہری علاقوں میں بھی نظر نہیں آتے یا دور دراز علاقوں سے بہت کم ہیں جہاں قدرتی آفات معمول ہیں- 

Volunteers refreshing their skills on rope management [image courtesy: AKAH-P]
 رضاکار رسی استعمال کرنے کی مہارت کی تجدید کررہے  ہیں ( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

گذشتہ سال کراچی کے گولیمار علاقے میں رضویہ سوسائٹی میں عمارت گرنے کا ایک المناک حادثہ ، جس میں دو درجن خواتین اور بچے پھنس گۓ۔ شاہ نے بتایا کہ رہائشیوں نے مرد  بازیافتگار کو روک دیا جو ملبے تلے دبے خواتین تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے- منیرا برکات سن 2013 سے ٹیم میں شامل ہیں ، کہتی ہیں ، ”ہمارے معاشرے میں ، جو اتنا قدامت پسند ہے ، یہ مسائل بار بار سر اٹھاتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے مرد اس بات پر  بضد رہتے ہیں کہ کوئی بھی مرد بازیافتگار  انکی خواتین کی لاش کو نہیں چھوئے گا۔ وہ بھلے انہیں ملبے میں دبا چھوڑ دیں،  خواتین کو ریسکیو کے کام میں رکھنا انتہائی اہم ہے۔” 

سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم میں 40٪ خواتین ہیں۔ خان نے کہا ، “مرد اور خواتین دونوں کو ایک ہی مہارت کے سیٹ پر تربیت دی جاتی ہے۔”

تربیت کو کام میں لانا

بانو کا پہلا بڑا ریسکیو مشن سن 2010 میں تھا جب وادی ہنزہ کے عطآباد نامی گاؤں میں زبردست لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی۔ عطآباد جھیل نے کا پانی کنارےتوڑتا ہوا، گھروں ، باغات ، کھیتوں اور اسکولوں کو ڈبو گیا اور6000 افراد کو بے گھر کرگیا- 

Disasters, such as the one that hit Attabad, can be devastating [image courtesy: AKAH-P]
عطآ باد جیسی آفات تباہ کن ہوسکتی ہیں ( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

بانو نے کہا ، “پہلی بار ، مجھے حقیقی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ، لاشوں کا بھی۔” 

نصرت کے لئے ، سوسوم میں مارچ 2016 میں گرنے والا برفانی تودہ جس میں نو طلباء جاں بحق ہوئے تھے ایک ایسا  واقعہ تھا جسے وہ کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتیں۔ 

انہوں نے دو ہفتہ خیمے میں گزارے ، برف کے طوفان اور بارش کا سامنا کیا تاکہ لاشوں ، بے ہوش افراد ، زخمیوں اور ہائپوٹرمیا کے شکار لوگوں کی دیکھ بھال کرسکیں- انہوں نے یاد کیا، “میں نے کوئی درجنوں افراد کی مدد کی تھی ، اور آٹھ لاشوں کو ان کے اہل خانہ کو بھیجنے سے پہلے ان کو صاف اور تیار کیا تھا۔”

Rescuers working after the Susoom avalanche [image courtesy: AKAH-P]
 سوسم پر برفانی تودے گرنے کے بعد امدادی کارکن کام کررہے ہیں- ( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

دیہاتیوں کی تربیت 

نصرت نے بتایا کہ کس طرح دیہات میں دن بھر کے تربیتی سیشن کراۓ جاتے  تاکہ مقامی رسک مینجمنٹ کے منصوبے تیار کیےجاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انھیں برفانی تودوں ، اقسام ، موسموں اور اس طرح کی صورتحال میں اپنی حفاظت کرنے کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ اس گاؤں کا تاریخی پروفائل تیار کرنے کے بعد  خیموں ، خوراک  اور ادویات وغیرہ سے آراستہ کسی پناہ گاہ تک پہنچنے کے لئے محفوظ راستے کی نشاندہی کرنے والا انخلا کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔ 

ان  کی ٹیم برفانی  خاص طور سے تودوں کے خطرے سے  دوچار گھروں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کرتی ہے۔ 

Joint simulation of Community Emergency Response Teams and local Search and Rescue Teams [image courtesy: AKAH-P]
کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں اور مقامی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں  کی مشترکہ  مشق -( تصویر بشکریہ اے کے اے ایچ-پی )

اس کے بعد صنفی شمولیت کی حامل کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں (سی ای آر ٹی)، مقامی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں (ایس اے آرٹی) اور ڈیزاسٹر اسسمنٹ اینڈ رسپانس ٹیمیں (ڈیاے  آر ٹی) تشکیل دی جاتی ہیں اور ہنگامی تیاری اور ردعمل کے لئے استعداد سازی کی جاتی ہے- 

ایک اور دیہاتی ، جن کا بھی نام نواز خان ہے ، نے سی بی ڈی آر ایم سیشن کی اہمیت پر زور دیا۔  انہوں نے اپنا اکلوتا بیٹا ، 19 سالہ مبشر حسن سوسم برفانی تودے کے حادثے میں کھو دیا۔ انہوں نے کہا ، “اگر یہ  اے کے اے ایچ-پی کے لوگ نہ ہوتے تو مجھے اپنے بیٹے کی لاش کبھی نہ مل پاتی۔”

“یہ مشکل تھا اور میں خوفزدہ تھی ، لیکن میں اب بغیر کسی خوف کے یہ کہہ سکتی ہوں کہ عورت کچھ بھی کر سکتی ہے جو مرد کرسکتا ہے ،” سوسم سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ صافی گل نے بتایا ، جنہوں نے برفانی تودے کے حادثے کے دوران نصرت کے ساتھ مل کر رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔

 

اپنی راۓ دیجیے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.