icon/64x64/regionalcooperation خطاتی تعاون

شاہ پور کنڈی ڈیم: پاک بھارت ماہرین کا آبی تحفظ کے لئے تعاون پر زور

پاکستان سے ارم ستار اور بھارت سے اُتۤم کمار سنہا نے شاہ پور کنڈی ڈیم کے مضمرات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت تعاون کی اہمیت پر زور دیا
<p>لاہور میں دریائے راوی کے کنارے کا ایک منظر۔ (تصویر: رانا ساجد حسین/الامی)</p>

لاہور میں دریائے راوی کے کنارے کا ایک منظر۔ (تصویر: رانا ساجد حسین/الامی)

بھارتی ریاست پنجاب میں دریائے راوی پر شاہ پور کنڈی بیراج مکمل ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے جس کے باعث پاکستان میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے کیونکہ وہ دریائے راوی کے نشیبی رخ پر واقع ہے۔ تین دہائی قبل تجویز کیا گیا یہ ڈیم پنجاب میں 5000 ہیکٹر اور بھارت کی جانب جموں و کشمیر میں 32000 ہیکٹر سے زائد زرعی زمین کو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ ڈیم پاکستان کے نشیبی علاقوں میں دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو روک دے گا جیسا کہ اخبارات میں بڑی حد تک ’پانی پر جنگ کو ہوا دینے‘ جیسے الزامات کی سرخیوں کا غلبہ ہے۔

دریائے راوی سندھ طاس کے ان چھ دریاؤں کا حصہ ہے جو انڈس واٹر ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کے تحت آتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 1960 میں دستخط ہونے والا انڈس واٹر ٹریٹی جنوبی ایشیا میں صرف دو بڑے عبوری آبی معاہدوں میں سے ایک ہے۔ (دوسرا 1996 کا گنگا معاہدہ ہے) جسے آبی سفارتکاری کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

دی تھرڈ پول نے دو ماہرین، پاکستان سے ارم ستار اور بھارت سے اُتۤم کمار سنہا کو مدعو کیا کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے لئے ترقی کا کیا مطلب ہے اور اس کے ساتھ ہی ماحولیاتی لحاظ سے سندھ طاس پر طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔

ارم ستار، پانی کے قانون کی ماہر ہیں اور ہارورڈ لاء سکول سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے

Erum Sattar
تصویر بشکریہ ارم ستار

ضروری’ ہے کیونکہ یہ ایک ایسا تنازعہ ہے جو کچھ عرصے سے خاص طور پر سوشل میڈیا پر جاری ہے اور زیادہ تر لوگ معمولی باتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ معقول لوگوں کو اِس کا جواب ‘نرمی سے آگے بڑھنے’ کی درخواست کر کے پورا کرنا چاہئے، کیونکہ یہاں دیکھنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس مجموعی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ مختصراً اس کی تفصیلات جانی جائیں کہ انڈس واٹر ٹریٹی کن اقدامات کی اجازت دیتا ہے اور کن کی نہیں۔

انڈس واٹر ٹریٹی آج تک دنیا کا وہ واحد معاہدہ ہے جو حقیقی دریاؤں کو موڑتا اور تقسیم کرتا ہے لیکن ان کے بہاؤ یا پانی کی مخصوص مقدار کو نہیں۔ اس معاہدے کے تحت سندھ طاس کے تین مغربی دریا پاکستان کو جبکہ تین مشرقی دریا بھارت کو تفویض کئے گئے۔ اس تقسیم کے بارے میں جاننے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کا مقصد یہ یقین پیدا کرنا تھا کہ معاہدے کے اختتام کے بعد دونوں ممالک اپنے لئے مختص کئے گئے دریاؤں کے پانی سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے درکار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر آزادی سےکر سکیں۔

پانی چونکہ اوپر (بھارت) سے نیچے (پاکستان) کی طرف بہتا ہے اس لئے اگر بھارت دریائے راوی کا پانی اپنی حدود میں استعمال نہ کرے تو وہ قدرتی طور پر پاکستان کی طرف بہے گا۔ شاہ پور کنڈی ڈیم اور اس حوالے سے اٹھائے گئے مسئلے کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ماضی میں راوی کے بہاؤ کے ساتھ بِعَینہ یہی معاملہ ہو رہا تھا جب تک بھارت نے اس بہاؤ کو اوپری جانب اپنی حدود میں موڑا نہیں تھا۔

لیکن صرف اس وجہ سے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کو ‘اپنے’ متعلقہ دریاؤں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی اجازت دیتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ممالک معاہدے کے دیگر نُکات کی پاسداری اور ماحولیاتی بہاؤ (دریا کو صحت مند رکھنے کے لئے پانی کے بہاؤ کی مقدار) کے لئے ضروری اقدامات و انتظامات سے گریز کرنے لگیں بلکہ ان کو چاہیے کہ وہ اِس کے لئے انڈس واٹر ٹریٹی کے معاہدے میں اضافے سے بھی گریز نہ کریں۔

جیسا کہ ماہرین ماحولیات نے طویل عرصے سے نشاندہی کی ہے کہ ماحولیاتی بہاؤ کے لئے انتظامات نہ کرنے سے ، تین مشرقی دریاؤں کے نشیبی حصّوں کی ہائیڈرولوجی اور ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ مزید برآں، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بارش اور دریا کے بہاؤ کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور بدلتے ہوئے نمونے، پانی کے انتظام کو اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا رہے ہیں جو معاہدے پر بات چیت کے وقت سمجھی گئی تھی۔

بھارت کی جانب سے اپنی سرزمین کے اندر منصوبوں کی تخلیق پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی کے حقائق کے پیش نظر ہمسایہ ممالک کے اچھے طرز عمل کے بارے میں جامع بات چیت کی جائے۔ پاکستان کو معاہدے کے آرٹیکل 7 کے تحت ایک تجویز پیش کرنی چاہیے جو دریائے سندھ کے سسٹم کے ساتھ مستقبل میں تعاون کی بنیاد پیدا کرے۔ اسے فوری طور پر بھارت اور دنیا کے ساتھ دریائے سندھ کے انتظام کے بہترین طریقہ کارکے بارے میں اپنے خیالات کا اشتراک کرنا چاہئے۔ پاکستان کے لئے اس وقت یہ سب سے اہم کام ہے کیونکہ یہ درحقیقت دریائے سندھ کو انصاف اور سمجھداری سے سنبھالنے پر منحصر ہے۔ کوئی اور چیز توجہ ہٹانے کا باعث بنے گی۔

موجودہ تنازعہ کو واضح طور پر سمجھنے کے لئے، بین الاقوامی آبی قانون کی پیچیدگیوں اور قابل ذکر نقصان اور منصفانہ استعمال جیسے مسابقتی تصورات کا تفصیلی تجزیہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور نہ ہی براہ راست اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آیا پاکستان کے جانب سے مخصوص اور عام تحفظات یا دلائل موجود ہیں یا نہیں کیونکہ دریائے سندھ کے مذاکرات کی طویل تاریخ میں مغربی اور مشرقی دونوں دریاؤں پر نشیبی دریا کے ایک ملک کا ایک بڑے بالائی دریائی ملک کے پڑوسی ہونے کے بارے میں بات کی گئی ہے۔

ہر ‘بحران’ ایک موقع بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس وقت پاکستان کو دریائے سندھ کے ایک اہم نگران کی حیثیت سے ایک دور اندیش اور مثبت نقطہ نظر اپنانا چاہیے۔ اِسے ایک ایسا منصوبہ تجویز کرنا چاہئے جس میں انتہائی موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان طویل مدتی استحکام کے لئے دریائے سندھ کے طاس میں تعاون کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اس نقطہ نظر میں پاکستان، بھارت، افغانستان اور چین کے تمام انسانی صارفین اور غیر انسانی انواع اور ماحولیات کا احاطہ کیا جانا چاہئے۔ اس طرح، پاکستان بین الاقوامی آبی قوانین اور مشترک دریائی ممالک کا آپس میں حال اور مستقبل کے لئے بیسن کا انتظام کرنے پر اتفاق کرنے سے پہلے ہی ایک رہنما کے طور پر اُبھر سکتا ہے۔

جغرافیائی سیاست اور قومی مفادات کی اچھی ہم آہنگی کے لئے اور ساتھ ہی ماحول کی بہتری کے لئے فعال طور پر کام کرتے ہوئے قائدانہ صلاحیت اور دوراندیشی کا ہونا ضروری ہے۔

اُتۤم کمار سنہا، عبوری دریاؤں کے سینئر ایکسپرٹ، انڈس بیسن اَن اِنٹرپٹیڈ کے مصنف: الیگزینڈر سے نہرو تک سرحدوں اور سیاست کی تاریخ

Uttam Kumar Sinha
تصویر بشکریہ اُتۤم کمار سنہا

یہ تاثر غلط ہے کہ شاہ پورکنڈی منصوبہ جان بوجھ کر پاکستان میں بہنے والے پانی کو روکنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کی ناقص تفہیم کی وجہ سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ بھارت پاکستان کو سزا دینے کے لئے دریاؤں کے پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

طویل برسوں کے مذاکرات کے دوران، بھارتی مذاکرات کار بھارت کے ترقیاتی منصوبوں، آبپاشی کی سہولیات اور
بجلی کے لئے پانی کی ضروریات سے آگاہ تھے۔ لہٰذا مجوزہ راجستھان نہر (جسے اب اندرا گاندھی نہر کہا جاتا ہے)
اور دریائے ستلج پر بھاکرا ڈیم کے لئے مشرقی دریاؤں کا پانی حاصل کرنا بہت ضروری تھا۔ ان پانیوں کے بغیر
ہندوستان کی دونوں ریاستیں پنجاب اور راجستھان خشک رہ جائیں گی، جس سے ہندوستان کی غذائی پیداوار بری طرح
متاثر ہوگی۔

اگرچہ مشرقی دریاؤں پر بھارت کے مفادات کا تحفظ ضروری تھا لیکن پاکستان کو پانی کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا۔ لہٰذا انڈس واٹر ٹریٹی میں مشرقی دریاؤں سے متعلق شقوں کو پڑھنا مفید ہے، جس میں بھارت کی جانب سے مشرقی دریاؤں کے پانی کے بلا روک ٹوک استعمال کی بات کی گئی ہے اور خاص طور پر آرٹیکل 2 میں، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے راوی کے پانی کے استعمال پر بھارت کا مکمل حق ہے۔

انڈیا کے اندر انڈس واٹر ٹریٹی پر بحث بڑے پیمانے پر تین زمروں میں آتی ہے۔ سب سے پہلے، انڈس واٹر ٹریٹی کی جگہ ایک اور بہتر منصوبہ یعنی انڈس واٹر ٹریٹی – دوم لانے کی ضرورت ہے۔ دوسری بحث یہ ہے کہ اسے منسوخ کیا جائے اور اس معاہدے کی شقوں کو استعمال کرتے ہوئے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان کو تکلیف پہنچائی جائے۔

نظرثانی کی وکالت کرنے والوں کا استدلال ہے کہ یہ معاہدہ اس لحاظ سے فرسودہ ہے کہ اس میں تعاون کی نئی حقیقتوں اور بنیادوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے جیسے کہ آبی وسائل کے بہتر استعمال کے لئے طاسوں کا مناسب سروے اور کشمیریوں کے مفادات پر نظر ثانی کرنا جن کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا، اور ڈیم بنانے، ریت اور مٹی نکالنے اور ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے جو نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا رہا ہے اُس کا ذکر بھی اس معاہدے میں شامل نہیں ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجیز اس وقت موجود نہیں تھیں جب یہ معاہدہ لکھا گیا تھا۔

تاہم اس معاہدے کی تنسیخ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے نے غیر منصفانہ طور پر پاکستان کو اُس مقدار سے زیادہ پانی فراہم کیا ہے جس کا وہ حقدار ہے اور ساتھ ہی اِس معاہدے میں ایسی شقیں موجود نہیں ہیں جن سے پاکستان کی جانب سے دوستانہ رویے کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن ایک تیسرا نقطہ نظر ہے جو معاہدے کی شقوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے ارد گرد مرکوز ہے۔ اس کی ہمایت کرنے والوں کا خیال ہے کہ بھارت معاہدے کی شقوں کو اچھے اثرات کے لئے استعمال کرنے میں سست روی کا شکار رہا ہے۔ بھارت نے دریائے راوی جیسے مشرقی دریاؤں کے پانی کے مکمل استعمال کے لئے بنیادی ڈھانچہ

تعمیر نہیں کیا ہے اور نہ ہی انڈس واٹر ٹریٹی کی جانب سے مغربی دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کی اجازت کا فائدہ اٹھا کر پانی ذخیرہ کیا۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بھارت کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

بھارت کی جانب سے دریائے سندھ پر 2014 کے بعد سے جن اہم آبی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے ان میں انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اِن میں مشرقی دریاؤں پر پنجاب میں شاہ پور کنڈی ڈیم، جموں و کشمیر میں اُجھ پروجیکٹ اور سیکنڈ راوی ویاس لنک پروجیکٹ شامل ہیں۔ مغربی دریاؤں پر، جموں و کشمیر میں برسر کثیر المقاصد پروجیکٹ، اور دوسرا کثیر المقاصد پروجیکٹ ہماچل پردیش کے لاہول اور اسپیتی ضلع میں دریائے بھاگا (چناب مین) پر گیسپا ہے۔ ایک اہم رائے یہ بھی ہے کہ تلبل نیویگیشن پروجیکٹ، جس پر پاکستان نے اعتراض کیا تھا اور جو تعطل کا شکار ہے، اب اِسے مکمل ہونا چاہیے۔

یہ سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے کہ سندھ طاس کی بدلتی ہوئی حرکیات کے پیش نظر تعاون کو فروغ دینے کے لئے انڈس واٹر ٹریٹی کے فریم ورک کے اندر کیا کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی نقطہ نظر سے دو اہم انتباہات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس خیال کو بالائے طاق رکھنا چاہیے کہ انڈیا پاکستان سے آنے والے پانی کے بہاؤ کو روکنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ انڈس واٹر ٹریٹی کی دفعات کے تحت ناقابل دفاع ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بھارت کو لگتا ہے کہ پاکستان کی قیادت کا ایک حصہ اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور ایک بار پھر کشمیر کی طرف بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش میں یہ مسائل اٹھا رہا ہے۔ یہ باتیں تعاون کے کسی بھی حقیقت پسندانہ امکانات کو کم کردیتی ہیں۔

مترجم: عشرت انصاری

اپنی راۓ دیجیے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.