icon/64x64/pollution آلودگی

کوئلے کی دھول پاکستان میں بچوں کی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے

بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والوں کے بچے اپنے والدین کے پیشے کی قیمت ادا کر رہے ہیں، رفیع اللہ مندوخیل لکھتے ہیں
<p>ایک شیر خوار بچی روایتی لباس پہنے ہوئے، دوکی کے کوئلے کے میدان میراگان میں اپنے گھر کے باہر بیٹھیہے (تصویر: رفیع اللہ مندوخیل)</p>

ایک شیر خوار بچی روایتی لباس پہنے ہوئے، دوکی کے کوئلے کے میدان میراگان میں اپنے گھر کے باہر بیٹھیہے (تصویر: رفیع اللہ مندوخیل)

صبح کی خشک ہوا ہے، گہرے سرمئی بادل چھائے ہوۓ ہیں اور بچے اپنے مٹّی اور اینٹوں کے گھروں کے باہرننگے پاوں کھیل رہے ہیں۔ دوکی معدنیات سے مالا مال ضلع ہے اور پاکستان کے جنوب مغربی صوبہبلوچستان میں واقع ہے۔ دوکی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 230 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔کوئلے کی کان کنی سے نکلنے والے دھول کے اخراج سے صحت عامہ کو لاحق سنگین خطرات کے باوجودخیبر پختونخواہ اور پڑوسی ملک افغانستان کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے خاندان کوئلے کے انمیدانوں کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔

“میرا خاندان کوئلے کی دھول اور کالے دھوئیں میں سانس لے رہا ہے، لیکن میرے پاس کوئلے کے اس میدانمیں رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ایک بڑی تعداد میں مقامی بچے پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہو کرہسپتال آتے ہیں” یہ بات عطا محمد نے کہی جو کہ کوئلے کے سینکڑوں کارکنوں میں سے ایک ہیں اور دوکیکے مضافات میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ سات بچوں کے باپ ہیں اور
ان کے چار بچے سینے کے انفیکشن میں مبتلا ہیں اور وہ اکثر ان کا علاج کروانے کے لیے مقامی ہسپتال جاتےہیں۔

پاکستان کوئلے کی کان کنی سے فائدہ اٹھا رہا ہے، لیکن اس علاقے کے بچوں کی صحت خطرے میں ہے

Duki map
ضلع دوکی، صوبہ بلوچستان، پاکستان
نقشہ بذریعہ دی تھرڈ پول

کوئلہ جسے مقامی لوگ ” کالا سونا ” کہتے ہیں، پاکستانی صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فیکٹریوں، اینٹوںکے بھٹوں اور توانائی کے شعبوں میں استعمال ہوتا ہے۔ کمائی کے اس طریقے کا نقصان یہ ہے کہ ان کوئلے کیکانوں میں کام کرنے والوں کے بچے نہایت اذیت میں مبتلا ہیں، کیونکہ وہ زہریلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔بالائی سطح پر موجود کوئلے کی کان کنی کی جگہوں کے قریب رہنے والے بچوں میں دمہ اور سانس کی دیگرعلامات کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔ مقامی معالجین کے مطابق کوئلے کی دھول کے باعث بچے سانس لینے میں دشواریاور سینے میں انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا تقریباً 50 فیصد کوئلہ معدنیات سے مالا مال بلوچستان میں پیدا ہوتا ہے اور کوئلے کی کان کنی صوبےکی آمدنی کا ایک ذریعہ ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن ٹریڈ یونین کے صوبائی نائب صدر امبر خان یوسفزئی کا کہنا ہےکہ دوکی اور چمالنگ میں کوئلے کی کانوں میں 15,000 سے 20,000 مزدور کام کرتے ہیں، جن میں سے اکثرغیر منضبط ہیں اور تقریباً 5000 سے6000 خاندان ان سینکڑوں کانوں کے قریب رہتے ہیں۔ چمالنگ کی کانیںخطے کی سب سے بڑی کانیں ہیں۔

A cluster of mud houses in the Chhota Chamalang coal mining area of Duki, Pakistan
دوکی کے علاقے چھوٹا چمالنگ میں کچے مکانوں کا جھرمٹ (تصویر: رفیع اللہ مندوخیل)

ساٹھ سالہ عبدالرحمان نے کوئلے کی صنعت میں 26 سال تک کام کیا، لیکن دمے کی بیماری کے بعد گہری کانوںمیں کھدائی کرنے سے قاصر رہا۔ اس نے متبادل کیرئیر تلاش کیا اور اب وہ دوکی بازار میں جوتے اور چپلبیچتا ہے۔ “میں آٹھ بچوں کا باپ ہوں۔ میرے دو بچوں کو سانس کی بیماریاں ہیں جن میں سے ایک پانچ سال اوردوسرا نو سال کا ہے ۔ مجھے مقامی ڈاکٹروں سے بنیادی علاج پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ میرے سارے بچوں میں

سے صرف ایک ہی بچہ اسکول جاتا ہے” انہوں نے نیلا انہیلر استعمال کرتے ہوئےکہا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کان کنی کرنے والی کمپنیاں اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام ہیں

دوکی ضلع سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں نور بی بی کو بھی ایسا ہی تجربہ ہوا ہے ۔ان کے شوہر نے13 سال کان کنی کی صنعت میں کام کیا ہے، لیکن اب وہ کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ان کے دو بچے ہیں جنکی عمر سات سے نو سال کے درمیان ہے پچھلے کئی سالوں سے پھیپھڑوں کی بیماری کا شکار ہیں۔ اسکولجانے کے بجائے یہ بچے سارا دن کانوں کے قریب کثافتوں کے ڈھیر میں کوئلے کے ٹکڑے تلاش کر کے گھرمیں لاتے ہیں جو کے ایندھن جلانے کے کام آتا ہے۔”پورا علاقہ گرد اور دھوئیں سے بھرا ہوا ہے۔ بارش بھی نہیں ہوتی ۔کان کی کمپنیوں کے مالک بھی غریبلوگوں کی مدد نہیں کرتے۔ میں اپنے بچوں کی صحت اور تاریک مستقبل کی وجہ سے پریشان ہوں” بی بی نےاپنے گالوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

Three children from the coalfield areas of Pakistan collecting coal
بچے کوئلہ جمع کر رہے ہیں۔ (تصویر: رفیع اللہ مندوخیل)

یوسفزئی نے کہا کہ صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے مزدوروں کے بچے بیمار ہو جاتے ہیں۔”بچوں کی صحت اور تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو صحت کے مراکز کو مکمل طور پر فعال کرناچاہیے۔ ایک ماہر اطفال کو کان کے مزدوروں کے بچوں کے لیے مقرر کرنا چاہیئے کیونک یومیہ اجرت پر کامکرنے والے مزدوروں کی آمدنی بہت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کا اچھے طریقے سے علاجنہیں کروا سکتے۔”

مائنز ایکٹ ۱۹۲۳ کے تحت مائنز اور منرلز ڈیویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ بلوچستان کی شاخ مائنز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشنکان کے مزدوروں اور اُن کے بچوں کے صحت ، تعلیم اور فلاح و بہبود کے ذمےدار ہے۔ بہرحال ہیومن رائٹسکمیشن آف پاکستان کے مطابق سائٹ پر صحت کی دیکھ بھال برائے نام ہی ہے۔

ہسپتال کے بیرونی مریضوں کے شعبے میں 70 سے 80 مریضوں کا روزانہ معائنہ کیا جاتا ہے جس میں سےنصف بچے ہیں
محمد عظیمڈاکٹر اور دوکی کے تپ دق ( ٹی بی ) کنٹرول پروگرام کے سہولت کار

دی تھرڈ پول سے بات کرتے ہوئے، دوکی کول فیلڈ کے مائنز انسپکٹر صابر شاہ کا کہنا ہے کہ کول مائنزریگولیشنز 1926 اور مائنز ایکٹ 1923 کے تحت 18 سال سے کم عمر کا بچہ کان کنی کے علاقے میں مزدورکے طور پر کام نہیں کر سکتا چاہے وہ زیر زمین کام ہو، سطح پر ہو یا کوئلے اٹھانے کا کام ہو۔

شاہ کہتے ہیں”اگر کوئی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتا ہوا پکڑا جاتا ہے تو جانچ کے بعد ایک مائنز انسپکٹر مقدمہدرج کرتا ہے اور اسے چیف مائنز انسپکٹر کے ذریعے جوڈیشل مجسٹریٹ کے دفتر میں جمع کراتا ہے، جہاںقانون کے مطابق اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔”

شاہ کا کہنا ہے کہ محکمہ مائنز کے لیبر ونگ نے کان کنی کے تمام علاقوں میں صحت کی سہولیات کا بیمہ کرایاہے جہاں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدور، ان کے خاندان کے افراد اور بچوں کے سینے کی بیماریوںکا علاج کیا جاتا ہے۔

تاہم مقامی لوگ اس کو ایک مختلف حقیقت سے جوڑتے ہیں۔ “ہم ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جو کوئلے کیکانوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں کالا دھواں ہے کیونکہ لوگ کھانا پکانے اور گرم کرنے کے لیے اپنے گھروں میںکوئلہ جلاتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کے زیادہ تر بچے متاثر ہوتے ہیں، جیسا کہ میرا بیٹا بھی متاثر ہے” محمد عارفنے بتایا جو دوکی میں ٹائروں کی مرمت کی دکان چلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں رہنے والے مزدور نہ تو شہرمیں کرائے کے مکانات کی لاگت برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے بیمار بچوں کا کوئٹہ کے بڑے

اسپتالوں میں علاج کروا سکتے ہیں۔

مقامی لوگ تپ دق اور دمہ سے خوفزدہ ہیں

محمد عظیم جو کے ایک ڈاکٹر اور دوکی میں شارٹ کورس (ڈاٹس) تپ دق (ٹی بی) کنٹرول پروگرام کے براہراست مشاہدہ کے سہولت کار ہیں، کہتے ہیں کہ کوئلہ کے کانوں میں کام کرنے والے زیادہ تر ٹی بی کا شکارہیں، جو خاندان کے دیگر افراد میں بھی پھیلتا ہے کیونکہ یہ ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے۔ کوئلے کی دھول میںپرورش پانے والے بچے آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں اور ضلع کے دیگر علاقوں کے بچوں کے مقابلے ان میںسانس کی علامات زیادہ ہوتی ہیں۔ “زیادہ تر مریض نابالغ ہیں۔ غربت، گندگی کے ماحول میں رہنا اور صحت کیسہولیات کا نا ہونا ایسے عوامل ہیں جو کے ٹی بی کے مرض کو پھیلاتے ہیں” عظیم نے وضاحت کی۔

“عالمی سطح پر کوئلے کے کان کنوں میں ٹی بی کے واقعات عام آبادی کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہیں” احمدولی جو کے کوئٹہ میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ڈاکٹر اور آفیسر ہیں، نے کہا۔ “بلوچستان کے کوئلے کےمیدانوں میں کوئلے کی دھول کا ارتکاز بہت زیادہ ہے۔ اور اسکی وجہ ماحولیاتی قوانین کا غیر مؤثر اطلاق اورصحیح طریقے سے نگرانی کا نہ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ کان کنوں اور کان کے مالکان کی طرف سےاپنائے جانے والے حفاظتی اقدامات کی کمی اس صورت حال کو اور بھی بدتر بنا دیتی ہے۔” ٹی بی کنٹرولپروگرام بلوچستان کے پاس نگہداشت کی سہولت ڈی ایچ کیو ہسپتال دوکی میں موجود ہے لیکن بیماری سے متاثرافراد کی تعداد کے مقابلے میں سہولیات کا بہت زیادہ فقدان ہے۔” ولی نے کہا۔

“ہسپتال کے بیرونی مریضوں کے شعبے میں 70 سے 80 مریضوں کا روزانہ معائنہ کیا جاتا ہے جس میں سےنصف بچے ہیں،” عظیم نے تصدیق کی۔ ” 40 میں سے 30 بچے عام طور پر سینے کے انفیکشن، دمہ اور الرجیزکا شکار ہیں۔”

Hundreds of under-age children are working in different coalfields in Duki
سیکڑوں کی تعداد میں کم عمر بچے دوکی کے مختلف کوئلے کے میدانوں میں کام کر رہے ہیں (تصویر: رفیع اللہ مندوخیل)

کوئلے کے کان کنوں کے پھیپھڑوں کا مرض (CWP) کوئلے کے کارکنوں کا نیوموکونیوسس جسے سیاہ پھیپھڑوں کی بیماری بھی کہا جاتا ہے، کانکنوں کے بچوں میں عام ہے۔

“پھیپھڑوں کی دو بیماریاں CWP اور COPD ( یعنی پھیپھڑوں کی دائمی رکاوٹ کی بیماری) زیادہ تر کوئلےکی کان کی دھول کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ کوئلے کے کان کنوں کو اس کے ساتھ ساتھ سلیکا آمیز دھول کا سامنابھی رہتا ہے جو پھیپھڑوں کی سوزش جیسی بیماریوں کا سبب بنتا ہے” ڈاکٹر ولی نے بتایا۔

کراچی یونیورسٹی کے ادارہ برائے ماحولیاتی مطالعہ کے اسسٹنٹ پروفیسر وقار احمد کا کہنا ہے کہ جب کوئیبچہ گردو غبار سے بھری ہوا میں سانس لیتا ہے تو اس سے ان کے نظام تنفس پر برا اثر پڑتا ہے اور اس سےالرجی ہوتی ہے۔ بچے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ہوا کے راستے بڑوں کے مقابلے میںچھوٹے ہوتے ہیں اس لیے سوزش کے نتیجے میں انکا دم گھٹ سکتا ہے۔

ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کی عدم دستیابی

کوئٹہ میں صوبائی محکمہ ماحولیات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیخ خالق داد مندوخیل کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے دوکیکے علاقے میں ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔” ماحول سے متعلق کسی بھی مسئلےکی صورت میں، میں خود عام طور پر کوئلے کے میدان کے علاقے کا دورہ کرتا ہوں۔ دھول کو کنٹرول کرنےکے لیے کام کی جگہ پر پانی کے چھڑکاؤ کے نظام کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کی قانونی دستاویزات کی خلافورزی کی صورت میں کان کے مالکان کو فراہم کردہ این او سی [نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ، ایک پراجیکٹ کو مجازثابت کرنے کے لیے قانونی دستاویز] منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ “

کراچی میں بین الاقوامی یونین برائے تحفظ فطرت کے پروگرام کے سربراہ دانش راشدی کا کہنا ہے کہ اگرچہپاکستان پیرس موسمیاتی معاہدے کے دستخط کنندگان میں سے ایک ہے جس کا مقصد گلوبل وارمنگ کو محدودکرنا ہے۔ دستخط کنندہ ہونے کے باوجود کوئلے کی کان کنی پاکستان میں کچھ عرصے تک جاری رہنے کا امکانہے۔ “پاکستان میں توانائی کے لیے ہماری بڑی ضروریات کے پیش نظر کوئلے کے پاور پلانٹس کا کافی رجحانہے۔ وقتی طور پر ایسا لگتا ہے کہ ہمارا کول پاور پلانٹس پر انحصار اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہنجی شعبہ ازالہ کاربن کے لیے اقدامات نہیں اٹھاتا۔ اور کوئلے کےاثرات کی تلافی کرنا شروع نہیں کرتا اورمستقبل میں صاف توانائی کی طرف نہیں جاتا۔ ”

مترجم: عشرت انصاری

اپنی راۓ دیجیے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Reader Survey

Take our 5-minute reader survey

for a chance to win a $100 gift card