آلودگی

کراچی کے سمندر کی تباہ کن آلودگی

شہر کا صاف نہ کیا گیا فضلہ اور دو بندرگاہوں کا بہنے والا تیل سمندری حیات اورپاکستان کے مچھیروں کے معاش کے لیے خطرہ کا باعث ہے-
اردو

آلتصویر امر گوریرو)  پانچ تھکے ماندےمچھیروں کی یہ جماعت بحیرہ عرب کے تھکا دینے والے تین روزہ سفر سے ابھی لوٹی ہے۔کراچی میں مچھیروں کی تاریخی آبادی، ابراہیم حیدری، کی مچھیروں کی گودی میں لہروں میں لڑکھراتی اپنی کشتی کولنگر اندازکر کے جال اتارتے اور پلاسٹک کی ٹوکریاں خالی کرتے ہیں۔آخر میں چھوٹی مچھلیوں پر مشتمل اپنے شکارکو جمع کرتے ہیں۔تین دن کی محنت ہر ایک مچھیرے کو تین ہزار پاکستانی روپے (تیس امریکی ڈالر) دلائے گی کیوں کہ ان کے شکار کو مچھلیوں کی خوراک بنانے والی فیکٹریاں ہی خریدیں گی اور وہ بھی بازار کی قیمت سے کم دام میں ۔

“ساحلوں کے قریب مچھلیاں نہیں ملتیں اور اسی لیے ہمیں شکار کی تلاش میں کھلے سمندر میں جانا پڑتا ہے”، بتایا کشتی کے چالیس سالہ کپتان عباس ملاح نے۔

مچھیروں کےاس قدیم ترین گاوں کے باسیوں کی قسمت ان کا ساتھ چھوڑ رہی ہے کیوں انھیں پاکستان کے سب سے بڑے شہرکی ہردم بڑھتی آلودگی کا سامنا ہے۔ان دنوں انھیں کھلے سمندر میں جانے اور مچھلی کی تلاش میں کئی دن گزارنے کے لیے طاقت ور موٹر بوٹس، پہلے سے بڑے جالوں اورزائد افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔

Pollution has destroyed fish catch, and Karachi's fishermen are facing difficult times [image by Amar Guriro]

(لودگی کے باعث مچھلی کا شکار تباہ ہوچکا ہے اور یوں کراچی کے مچھیرے شدید مشکل میں ہیں-  (تصویر امر گوریرو)

“کوڑاکرکٹ اور غلاظت سمندر میں ڈالنے سے مچھلیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں”، کہا اسی گاوں کے ایک مچھیرے صالح محمد نے۔

مچھیروں کی گودی سے چند ہی گز دور کوڑے کے ڈھیر ساحل پر ڈال دیے گیے ہیں۔مقامی افراد کے مطابق بااثر افراد نے کوڑے کے ٹرک بلوا کراورشہرکا کوڑا سمندر میں پھنکوا کراس کی بھرائی شروع کر دی ہے۔ان کا خیال ہے کہ اس کے بعد وہ اس سے منسلک زمین کی ملکیت کا دعویٰ کریں گے اوربھاری قیمت پر بیچ دیں گے۔

گاوں کے بالکل پاس ایک بڑا گندا نالا ہے۔اس سے سفید جھاگ کے نیچے دھواں دار سیاہ پانی سمندر میں گرتا ہے۔ یہ زہریلا سیال شہر کی پیداوار ہے۔کراچی کے چھ صنعتی علاقوں میں دس ہزارصنعتی یونٹ ہیں جو ٹیکسٹائل سے لے کر کیمیکلز اورپینٹس تک سب کچھ بناتے ہیں۔ کیمیکل فضلہ کے لحاظ سے سب سے زیادہ آلودگی کا باعث چمڑا رنگنے کے کارخانے ہیں۔

ارباب اختیار مانتے ہیں کہ ٹھوس فضلہ اورزہریلا صنعتی پانی بغیر صاف کیے سمندربرد کیے جاتے ہیں۔ سندھ کے وزیر ماحولیات سکندر ماندھرو کا کہنا ہے کہ انھیں علم ہے کہ ٹھوس فضلہ اورزہریلا صنعتی پانی سمندر میں ڈالے جاتے ہیں۔ “یہ کوئی نئی بات نہیں۔ہم نے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا ہے جس سے یہ مسئلہ مستقل طور پرحل ہو جائے گا”، ان کا کہنا تھا۔

حکومتی تخمینہ کے مطابق کراچی تقریباً پانچ سو ملین گیلن روزانہ کے حساب سے  گندا پانی پیدا کرتا ہے۔ تقریباً پانچواں حصہ ان صنعتوں سے جب کہ باقی گھریلو یا بلدیاتی نکاس سے۔”تقریباً تمام ترگھریلویا بلدیاتی اور صنعتی گندا پانی سمندر کا حصہ بننے سے پہلے صاف نہیں ہوتا اور یہ آفت کا باعث ہے کیوں کہ اس سے مچھلی کا شکار ختم ہورہا ہے اور سمندری حیات بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے،”ماندھرو نے تسلیم کیا اور بتایا کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔

قانون کے مطابق صنعتی اداروں کے مالکان صنعتی فضلہ کی صفائی اور گندے پانی کو ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ٹھکانے لگانے کے ذمہ دار ہیں۔”پہلے آلودگی کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے لیے کوئی قانون نہیں تھا مگر اب ہم نے نئے قانون متعارف کیے ہیں اور ہم جلدہی اس بات کویقینی بنائیں گے کہ ہرصنعتی ادارہ اپنے فضلے کو صاف کرے،” کہا ماندھرو نے۔

The drains to the sea are full of black water frothing with chemicals [image by Amar Guriro]

مندر میں گرنے والے گندے نالے کیمیائی مادوں کی جھاگ اڑاتے سیاہ رنگ کے پانی سے بھرے ہیں (تصویر امر گوریرو)

مگرفیکٹری مالکان کا خیال ان سے مختلف ہے۔”زیادہ تر صنعتیں پانچ یا چھ دہائیاں پہلے قائم ہوئی تھیں اور اب فیکٹریوں میں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کی جگہ نہیں ہے،” سید صادق احمد نے کہا ۔احمد کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ایک چھوٹی فیکٹری چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس صنعتی گندے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ تو ہے مگر اس پر ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔”کورنگی انڈسٹریل ایریا میں ایک بڑا ٹریٹمنٹ پلانٹ شروع کیا گیا تھا مگر اب وہ کام نہیں کررہا،” انھوں نے کہا۔

کراچی میں کوڑے کرکٹ کے لیے جگہیں متعین نہیں ، اس وجہ سے کوڑا کرکٹ یا ٹھوس فضلہ، جس میں پلاسٹک بھی شامل ہوتا ہے، سمندر میں براہ راست یا بارشی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے جومون سون کے سیلاب کے بعد بالآخر سمندر میں جا گرتے ہیں.

تحفظ ماحولیات کے صوبائی ادارے سندھ اینوارنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے اعدادوشمار کے مطابق بہت سا فضلہ مویشیوں کی بہت بڑی مقامی کالونی سے بھی آتا ہے جس میں دس لاکھ کے قریب جانور ہیں جن میں گائے اور بھینسیں شامل ہیں۔ یہاں پیدا ہونے والا فضلہ بھی سمندر ہی میں ڈالا جاتا ہے۔

There are dozens of drains carrying industrial effluent towards the sea in Karachi [image by Amar Guriro]

درجنوں گندے نالے صنعتی فضلے کو کراچی کے سمندر میں لے جاتے ہیں  (تصویر امر گوریرو)

ان ہی ساحلوں پر قائم پاکستان کے دوچلتی بندرگاہیں، کراچی پورٹ اور بن قاسم پورٹ، بھی آلودگی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)  کے ارباب اختیار کا کہنا ہے کہ سمندر کو صاف رکھنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں مگر پاکستان گیم فش ایسوسی ایشن کے مطابق یہ بندرگاہ “شاید دنیا بھر میں آلودہ ترین ہے”۔قرب وجوار میں جہازوں سے تیل بہنے کے واقعات عام ہیں اور 2003 کا تسمان سپرٹ کا تیل بہنے کا واقعہ تو دنیا بھر میں بد ترین واقعات میں شمارہوتا ہے۔ کراچی پورٹ کے قریب تسمان سپرٹ نامی یونانی جہاز پھنس جانے اور جہاز سے ہزاروں ٹن خام تیل بہنے سے ساحل آلودہ ہوگیا اورعلاقے میں ہزاروں کی تعداد میں مچھلیاں اور پرندے جان سے گئے۔ اس حادثہ کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

جانداروں اور ان کے ماحول سے متعلق ماہرین کو بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی سے تشویش لاحق ہے۔انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر اینڈ نیچرل ریسورسز(آئی یو سی این) پاکستان سے وابستہ معروف ماہر ماحولیات اور کوارڈینیٹر ندیم میربحرکا کہنا ہے کہ آلودگی نے مچھلی کے شکار اورسمندری حیات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔”مقامی افراد کو بعض اوقات سبز کچھوے اورفیل ماہی (سمندری میمل) ایسے جانور بھی مردہ حالت میں ساحل کے ساتھ ساتھ ملتے ہیں جن کی نسلیں معدوم ہورہی ہیں۔ان کی موت آلودگی کے باعث ہوتی ہے، خاص طور پر پلاسٹک کے فضلہ کے سمندر میں پھینکنے سے،” میر بحر نے کہا ۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی فضلے کے سمندر میں گرنے سے مچھلیوں کی بہت سی اقسام اب بحیرہ عرب میں نایاب ہو چکیں۔

عامر گوریرو کراچی میں رہائش پذیرفری لانس ماحولیاتی صحافی ہیں۔ان کا ٹویٹر ہے @AmarGuriro