icon/64x64/climate آب و ہوا

بروقت انتباہ پگھلتے ہوئے گلیشیر سے ہونے والے جانی نقصان سے بچاتا ہے

شیشپر گلیشیر کے نیچے ایک غیر مستحکم جھیل ہے جس کی وجہ سے وادی ھنزہ میں ہر سال سیلاب آتے ہیں، لیکن بروقت انتباہی نظام لوگوں کو وقت دیتا ہے کہ وہ ان علاقوں سے نکل جائیں۔
<p>گلگت بلتستان میں شیشپر چوٹی . 2018 سے شیشپر گلیشیر بڑھ رہا ہے جس سے بار بار غیر مستحکم جھیلیں بن رہی ہیں جو موسم گرما کے آغاز میں پھٹ جاتی ہیں (تصویر: عاطف سعید /الامی)</p>

گلگت بلتستان میں شیشپر چوٹی . 2018 سے شیشپر گلیشیر بڑھ رہا ہے جس سے بار بار غیر مستحکم جھیلیں بن رہی ہیں جو موسم گرما کے آغاز میں پھٹ جاتی ہیں (تصویر: عاطف سعید /الامی)

مئی میں پاکستان میں گرمی کی ایک لمبی اور شدید قسم کی لہر آئی جس کی وجہ سے شمالی پاکستان میں وادیہنزہ میں ایک برفیلی جھیل پھٹ گئی۔ سیلاب اپنے ساتھ نہ صرف ایک تاریخی پل بہا کر لے گیا بلکہ چھ گھرزرعی زمین، باغات اور دو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی تباہ کر گیا

اتنی بڑی مصیبت کے باوجود کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاؤں کے لوگوں کے لئے
سیلاب کا آنا حیرت کی بات نہیں تھی۔

ششپر گلیشیر نے 2018 میں دوبارہ بڑھنا شروع کیا۔ اور اس کے بڑھنے کی وجہ سے ساتھ والے موچوہر گلیشیر
کا راستہ بندہوگیا ، جس کے نتیجے میں برفانی جھیل بن گئ اور جو کہ ہر سال گرمی کے موسم میں شروع میں
پھٹ جاتی ہے۔ پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق، یہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ کے پہاڑی
علاقوں کی 33 خطرناک ترین برفانی جھیلوں میں سے ایک ہے۔

وضاحت : گلیشیر میں اضافہ، برفانی جھیل اور گلوف

ایک گلیشیر اس وقت بڑھتا ہے جب اس کی برف کی نچلی تہیں اوپری تہوں کے مقابلے میں تیزی
سے پگھلتی ہیں۔اگر چہ گلیشیر کا بڑھنا اتنا عام نہیں ہے۔لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو اچانک گرمی
کے نتیجے میں ایک بڑے گلیشیر میں ہوتا ہے۔ جب نچلی تہیں پگھلتی ہیں تو ایک بہت بڑی مقدار
میں برف پگھلی ہوئ برف اور پگھلے ہوئے پانی پر بیٹھ جاتی ہے، جسکی وجہ سے اوپری تہہ
پھسل کر ڈھلوان تک چلی جاتی ہے۔ ایک گلیشیر بڑھتا ہےاور اگر اس کا بڑھنا زوردار ہو تو
اوپری تہہ گلیشیر کے آخر تک پہنچ جاتی ہے اور تیزی سے پگھلنا شروع ہو جاتی ہے جسکے
نتیجے میں سیلاب آسکتا ہے۔

عام طور پر گلیشیر کے اختتامی حصوں سے گلیشیر قطرہ قطرہ پگھلتا ہے۔ان میں سے کچھ
قطرے زمین میں سرائیت کر جاتے ہیں جبکہ دوسرے قطرے بہت چھوٹی ندی بن جاتے ہیں اور
پھر پہاڑ کے ڈھلوان سے بہہ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے گلوبل وارمنگ برفانی پگھلاؤ کو بڑھاتی
ہے پانی اتنی زیادہ مقدار سے نکلتا ہے کہ وہ ندی یا زمین میں نہیں سما سکتا۔ پگھلا ہوا پانی
گلیشیر کے اختتام پر جمع ہو کر برفانی جھیل بنا لیتا ہے۔

ایک برفانی جھیل سے اچانک سے پانی کا نکلنا گلوف (یعنی برفانی جھیل سے پھٹ پڑنے والا
سیلاب)
کہلاتا ہے۔جیسے ہی برفانی پگھلاؤ بڑھتا ہےسب سے پہلے جھیل پھیل جاتی ہے ۔جھیل اس
وقت پھٹ جاتی ہے جب بہت زیادہ پانی کا وزن اور حجم بند کے اندر موجود نہیں رہ سکتا۔اس کی
وجہ سے بہت زیادہ نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔

پچھلے سال، مئی کے آخر میں بھی ایسا ایک سیلاب آیا، جس نے حسن آباد کے 170 میں سے 20 گھرانوں کو
بے گھر کر دیا۔ موجودہ سال 16 گھر زیر آب آگئے اور اُنہیں نقصان پہنچا۔ خطرے کے باوجود، 2018 میںگلیشیئر میں اضافے کے بعد سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سال 2020کے ابتداء میں ایک ابتدائی انتباہی سسٹم نافذ کیاگیا اور 1300میٹر کشادہ اور60 میٹر لمبی ششپر گلیشیر کی مستقل مانیٹرنگ کی گئی۔

حکام اور مقامی تنظیمیں نہایت چوکنے رہے اور ہمیں آگاہ رکھا” طارق جمیل نے مئی کے سیلاب کے بارے میں”

Map showing the proximity of the Shishper glacier to Hassanabad village • Graphic: The Third Pole

بتایا۔ جمیل حسن آباد میں ایک کسان اور کمیونٹی لیڈر ہیں جو کہ حکام اور کمیونٹی کے دوران آفت کے حوالے سےباہمی تعاون کرتے ہیں۔

فرخ بشیر ،محکمہ موسمیاتی پاکستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر گلگت بلتستان نے نے کہا کہ جب سے جھیل بنی ہے ان کا محکمہ گلیشیرکو

بہت غور سے دیکھ دیکھ رہا ہے-انہوں نے کہا کہ جھیل کے پھٹنے کی پیشن گوئی بالکل درست طریقے سے کی گئی ہے، حکام نے فروری کے مہینے میں ہی خبردار کردیاتھا کہ اپریل کےآخر اورمئی کے ابتداء میں جھیل کا پھٹنا ممکن ہوسکتا ہے ۔ خطرے کی وارننگ 27 اپریل اور 7مئی کو جاری کی گئی تھی۔

بشیر نے مزید کہا کہ “ہم نے تمام متعلقہ حکام اور کمیونٹیز کو جھیل کے پھٹنے سے کم از کم 24 گھنٹے قبل اہمصورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔”

“ہم زیادہ نقصانات سے بچنے میں کامیاب ہو گئے” جمیل نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شیشپر گلیشیئرخطرناک ہے کیونکہ یہ انسانی بستیوں کے بہت قریب ہے۔ ہائی وے اور حسن آباد گاؤں سے 4 کلومیٹر کےفاصلے پر ہے، اورسیلاب کو گاؤں تک پہنچنے میں صرف 15 منٹ لگتے ہیں۔

درست اور بروقت آگاہی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خطرناک جگہوں سے نکل سکتے ہیں حتی کہ اپنے سامان کو بھی منتقل کرسکتے ہیں” کچھ لوگوں نے گھروں کے اسٹرکچر جن کو خطرہ تھا منتقل کر دیا تھا”

شیشپر گلیشیر پر ارلی وارننگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

محمد علی ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ضلع ہنزہ، نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم جھیلکے پانی کی آمد و اخراج کی ہر روز نگرانی کرتی ہے گلیشیئر پر ایک کیمرہ نصب ہے جو کہ یہ اندازہ لگاتا ہےکہ جھیل میں کتنا پانی ہے۔ اس کیمرے کی گلگت بلتستان مینجمنٹ اتھارٹی دور سے نگرانی کرتی ہے۔

بشیر نے کہا پاکستان موسمیاتی محکمہ ہر 16 دن بعد جھیل کے سیٹلائٹ امیجیز موصول کرتا ہے اگر بادل نہ ہوںتو۔شیشپر اور موچوہر گلیشیر کے پانی بدلتی ہوئی کیمکل کی خصوصیات بھی پاکستان موسمیات محکمہ تصرفاتمیں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر گورنمنٹ کے ٹیمیں باقاعدگی سے جھیل کا دورہ کرتی ہیں۔

اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ کمیونٹیز کسی بھی قسم کی آفت کی صورت میں تیار رہیں۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی نے اگاہی مہم کے زیر اہتمام 8 مئی کے متوقع سیلاب سے پہلے ہی کئی بار علاقے کے لوگوںکے لیے عملی تربیت اور آگاہی پروگرام کمیونٹیز،خواتین، نوجوان، بزرگ اور رضاکار شامل تھے، منعقد کیےگئے۔ ان پروگراموں کا مقصد یہ شعور اجاگر کرنا تھا کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کوکس طرح موثر طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ان میں ابتدائی طبی امداد اور کیمپ کا انتظام کرنا اور متاثرہ افرادکی جلد اور موثر طریقوں سے مدد کرنا شامل ہے۔

بہرحال،  شیشپر گلیشیئر پر کوئی خودکار ابتدائی انتباہی کا نظام نہیں ہے جو کہ خطرے سے پہلے ایک خودکار سائرن بجا سکے۔علی نے کہا کہ توقع ہے کہ متحدہ

نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام کا گلوف ٹو پروجیکٹ اس سال آخر تک ایسا نظام نصب کرے گا

گلوف ٹو پروجیکٹ کیا ہے؟

گلوف-1 کی جانب سے گلوف ٹو پروجیکٹ کو یو این ڈی پی نے بیان کیا ہے کہ اس کا مقصد کمیونٹیز کو گلوف سے وابستہ خطرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے متعلقہ اثرات کی نشاندہی اور انتظام کرنے، گلوف سے متعلق آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لئے عوامی خدمات کو مضبوط بنانے اور کمیونٹی کی تیاریوں اور آفات سے نمٹنے کو بہتر بنانے کے لئے بااختیار بنانا ہے۔

گلوف ٹو منصوبہ پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور یو این ڈی پی کے درمیان مشترکہ اقدام ہے۔

 دی تھرڈ پول نے یو این ڈی پی سے پوچھا کہ کتنی سائٹس خودکار ای ڈبلیو ایس وصول کریں گی لیکن اشاعت کے وقت تک کوئی جواب نہیں ملا۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینیجمینٹ اتھارٹی کے پاس تین سالوں کے نگرانی کے نتائج کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے۔ یہ ریکارڈ برفانی جھیل کی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے میں بہت معاون ثابت ہوا ہے۔ 

محکمہ موسمیات پاکستان اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مشترکہ تجزیئے کے مطابق 0•4 اسکوائر کلو میٹر (ایک علاقہ جو کہ تقریباً 75 فٹبال پیچز کے برابر ہے)، باوجود شدید سیلابی پانی کے بہاؤ اور دباؤ کے، جھیل میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال پانی کم جما ہوا ۔علی نے مزید بتایا کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال جھیل کی صفائی کا کام دس گھنٹے پہلے مکمل کر لیا گیا۔ گزشتہ سال یہ کام 72 گھنٹوں میں جبکہ رواں سال62 گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ رواں سال درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھلے جن کی وجہ سے جھیل کی پشتیں کمزور پڑیں اور کئی بار ٹوٹ بھی گئں،انہوں نے کہا ۔

پاکستان  کی پہاڑی کمیونٹیز کو محفوظ بنانا

گلیشیئر کے پگھلنے اور جھیل کے پھٹنے کی وجہ سے  ہونے والی تباہی کے حوالے سے اکثر شیشپر گلیشیئر کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ گورنمنٹ کی نئی موسم کی تبدیلی کی ٹاسک فورس کی ابتدا کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے شیشپر گلیشیئر پر ہونے والی تباہ کاریوں سے بچنے پر زور دیا۔

ایک بیان میں، پاکستان کی کلائمٹ چینج منسٹر شیری رحمان نے کہا کہ شیشپر واقعہ کلائمٹ چینج کے شدید اثرات کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس آفت کا تعلق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے ہے جو کہ پاکستان میں گرمی کی لہر کی وجہ سے ہے۔

لیکن مسئلہ شیشپر اور ہنزہ وادی سے کہیں آگے ہے ۔اقوام متحدہ ڈوبلیمٹ پروگرام کے مطابق، بڑھتے ہوے درجہ حرارت کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقوں کے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں ،جسکی وجہ سے 3،044 برفانی جھیلیں بن چکی ہیں۔

گلگت بلتستان اور خیبر پختون خواہ میں مئی میں مقامی میڈیا نے ر پورٹ کیا، کے ایک بڑا پاسو گلیشیر اوپری ہنزہ میں تیزی سے پگھلنا شروع ہوگیا ھے،جسکی وجہ سے پاسو گاؤں اور ایک بہت اہم پل قرا قرم ہائی وے کو سخت خطرہ لاحق ہوا۔ پگھلتے ہوئے گلیشیر سے تیزی سے بہتے ہوے پانی نے پل کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا۔

glacier in between rocks with snow covered mountain in background
کتوبر 2020 میں پاکستان کے شہر گلگت بلتستان میں پاسو گلیشیر۔ مئی 2022 میں پاسو گلیشیر سے پگھلا ہوا پانی اچانک خارج ہونے سے شاہراہ قراقرم پر ایک اور پل کو نقصان پہنچا۔ (تصویر: الامی)

خطرے کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ابتدائی انتباہی نظام کو بہتر بنایا جائے۔محمد فہیم، پاکستان محکمہ موسمیات ڈپٹی ڈائریکٹر خیبر پختون خواہ نے کہا کہ گلوف-2 پراجیکٹ کے تحت چترال ڈسٹرکٹ کی تین وادیوں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں ارلی وارننگ سسٹم نصب کی جائیں گے ۔ فہیم پر امید تھے کہ اس سال کے اختتام پر ان سسٹمز کو ڈیجیٹایئز کر دیا جائے گا اور یہ حکام اور کمیونٹیزخطرات کے بارے میں کو درست اطلاع دیں گے۔ چترال کی گولن گول وادی میں ارلی وارننگ سسٹم کے پراجیکٹ کو بہتر کئے جانے کا عمل جاری ہے۔

ارلی وارننگ سسٹم سارے نقصانات سے نہیں بچا سکتے

بہترین ارلی وارننگ سسٹم بھی جھیل کے پھٹنے کے نتیجے میں سیلاب کے نقصان سے نہیں بچا سکتے۔ اس سال حسن آباد میں “کچھ ساختی نقصانات سے بھی نہیں بچا جا سکا”  طارق جمیل نے کہا۔جمیل نے کہا کہ 2018 میں جب شیشپر گلیشیر نے بڑھنا شروع کیا تو ان کو تقریبا 10 کنال زمین (50،000 اسکوائر میٹر ) اور 180 درختوں کا نقصان ہوا۔

“آب و ہوا سے متعلقہ واقعات کو ہم روک نہیں سکتے لیکن ہم اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور ایسے اقدامات جیسے کہ جنگلات اگانا اخراج کو کم کر سکتے ہیں” ۔
شہزاد شگری، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر

شیشپر گلیشیر کی وجہ سب سے زیادہ بڑا خطرہ میلانیای اراضی کو ہے۔ علی نہ کہا کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ سیلاب تیزی سے سفر کرتا ہے جو کہ کٹاؤ کا باعث بنتا ہے۔

سیلاب ک پانی اور تباہ شدہ چیزوں کی باقیات بہت تیزی سے آبادی کے  علاقوں میں پہنچتی ہیں اور حفاظتی پشتے سیلاب کے دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے

شہزاد شگری، جو کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ اس علاقے کی آب و ہوا بہت حساس ہے اور آسانی سے تباہی کا شکار ہوتی ہے۔ اس لیے اس علاقے کو ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو آب و ہوا سے متاثر نہ ہو ۔

شگری نے کہا “آب و ہوا سے متعلقہ واقعات کو ہم روک نہیں سکتے لیکن ہم اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں اور ایسے اقدامات جیسے کہ جنگلات اگانا اخراج کو کم کر سکتے ہیں” ۔

اپنی راۓ دیجیے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Reader Survey

Take our 5-minute reader survey

for a chance to win a $100 gift card