آب و ہوا

پاکستانی سیاسی جماعتوں کے منشور کتنے ماحول دوست ہیں؟ ایک جائزہ 

دی تھرڈ پول نے پاکستان کی اہم سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا جائزہ لیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ ماحول دوست ترقی، قابل تجدید ذرائع، موسمیاتی موافقت اور تخفیف کے حوالے سے کیا وعدہ کررہی ہیں۔
اردو
<p>موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے ایک واضح اور موجودہ خطرہ ہے اور اس کیا عکس ہمیں سیاسی جماعتوں کے منشور میں نظر آرہا ہے (بشکریہ الامی )</p>

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لئے ایک واضح اور موجودہ خطرہ ہے اور اس کیا عکس ہمیں سیاسی جماعتوں کے منشور میں نظر آرہا ہے (بشکریہ الامی )

پاکستان کے قومی انتخابات 8 فروری 2024 کو ہونے والے ہیں لیکن بڑی جماعتوں کے انتخابی منشور صرف ایک ماہ قبل  جنوری کے آخر میں جاری کئے گئے۔ یہ دی تھرڈ پول کی طرف سے ایک جائزہ ہے کہ آیا جماعتیں اپنے منشوروں میں موسمیاتی تبدیلی کو ترجیح دے رہی ہیں یا نہیں اور کس طرح ترجیح دے رہی ہیں۔

قیادت کی دوڑ میں سب سے آگے  مسلم لیگ-ن کا پرجوش منشور

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کو اگلی حکومت کی قیادت کی ریس میں سب سے آگے سمجھا جارہا ہے۔ تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے ساتھ، پارٹی نے 27 جنوری کو اپنا منشور پیش کیا۔ 33 حصوں پر مشتمل یہ منشور ماضی کے ان کارناموں پر روشنی ڈالتا ہے جو 2013-18 تک نواز شریف کی وزارت اعظمیٰ کے دوران اور 2022-23  کے دوران مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے بھائی، وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت نے سرانجام دیے، اور 2024-29 کے لئے وعدوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک سیکشن، بہ عنوان  پائیدار ترقی  اور موسمیاتی تبدیلی، “موسمیاتی لچکدار پاکستان کی تعمیر” پر مرکوز ہے۔

سموگ کا مقابلہ ایک اہم فوکل پوائنٹ ہے۔ اسے “ایئر کوالٹی ایمرجنسی” کے طور پر بیان کیا گیا ہے، یہ اس بات کی عکاس ہے کہ  پارٹی شہری معیشت اور کاروبار کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے، جس کی حمایت پارٹی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ تفصیلی منصوبہ بندی ہے، جس میں گاڑیوں کے اخراج کے اعلیٰ معیارات کو نافذ کرنا، اینٹوں کے بھٹوں کی تکنیکی اپ گریڈیشن، شہری منصوبہ بندی اور بھارت کے ساتھ سرحد پار تعاون، اے ایس ای اے این ہیز کنونشن کو بطور ٹیمپلیٹ استعمال کرنا شامل ہے۔

2022 کے سیلاب کے بعد کی جھلک، منشور کے دوسرے سب سے تفصیلی عہد، موسمیاتی لچکدارا، بحالی، آبادکاری اور تعمیر نو کے فریم ورک (4آرایف) میں نظر آتی ہے۔ یہ بلند نظر فریم ورک “معاشی شمولیت اور شرکت کو یقینی بناتے ہوئے معاش اور معاشی مواقع کو بحال کرنے کا عہد کرتا ہے۔” مزید برآں، اس میں 2022-23 میں شروع کیے گئے ریچارج پاکستان پروگرام اور لیونگ انڈس پروگرام جیسے اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت اور فطرت پر مبنی حل کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ، محکمہ موسمیات اور قبل از وقت وارننگ سسٹم کی صلاحیت کو بڑھانے کا عزم ہے۔ 

مسلم لیگ-ن نے ملکی توانائی کے مرکب میں شمسی توانائی کی صلاحیت 10 فیصد تک بڑھانے کا عہد کیا ہے

جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کو روکنا ایک اور اہم عہد ہے جو ہمیں نظر آتا ہے، جس میں ایک قومی جنگلی حیات کے جرائم نافذ کرنے والی ایجنسی کے قیام کی تجویز ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ، مجوزہ قانون سازی میں عوامی تقریبات جیسے کہ سیاسی جلسوں میں جانوروں کے استعمال پر پابندی اور جنگلی جانوروں کو پالتو جانور کے طور پر رکھنے پر پابندی شامل ہے۔ جنوری میں مسلم لیگ (ن) کی ایک ریلی میں، ایک زندہ ٹائیگر اور شیر کو لایا گیا تھا اور مبینہ طور پر نواز شریف کی مداخلت کے بعد، ممکنہ طور پر چڑیا گھر واپس بھیج دیا گیا تھا۔ منشور میں تمام وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈز کو خود مختاری دینے کا عزم بھی کیا گیا ہے، جو فی الحال حکومت کے زیر کنٹرول ہیں، اس اقدام کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو بڑھانا ہے۔

اور تباہی کے فنڈ کو متحرک کرنا اور دریائے سندھ کو ایک “زندہ وجود” قرار دینے کے لئے پاکستان بھر میں صوبائی اتفاق رائے کی وکالت کرنا ہے۔ دریائے سندھ چین، بھارت اور افغانستان سے بھی بہتا ہے، لیکن اس طرح کے فیصلے کے بین الاضلاعی اثرات، یا سرحد پار تعاون کی ضرورت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اگرچہ پورے منشور میں آب و ہوا اور ماحولیاتی وعدے نمایاں طور پر نمایاں ہیں، وہ غربت میں کمی اور روزگار اور زراعت سے متعلق حصوں میں واضح طور پر غائب ہیں۔

معیشت کا حصہ، زیادہ تر تیل اور گیس کے لئے وقف ہے، سینڈک کوپر-گولڈ پروجیکٹ میں کم کاربن یورو II کے اخراج کے معیارات اور بھاری تیل کے پلانٹ کو شمسی پلانٹ میں تبدیل کرنے پر بات کرتا ہے۔ تجارت، صنعت اور قدرتی وسائل کے حوالے سے منشور میں گرین فنانسنگ پول قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، حالانکہ اسکا رخ کان کنی کی طرف ہے۔ پانی کے انتظام اور پانی، خوراک اور تحفظ کے سیکشنز میں دنیا کے سب سے بڑے پانی کے نظام میں سے ایک پر ٹھوس جانکاری کی ضرورت پر زور دے کر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ 

تاہم، سب سے دلچسپ عہد توانائی کے سیکشن میں ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے 10,000 میگاواٹ کی نصب صلاحیت کے ساتھ ملک کے انرجی مکس کے 10 فیصد تک شمسی توانائی کو بڑھانے، قابل تجدید توانائی کے زونز کو گرڈز سے منسلک کرنے، ایندھن کے معیارات اور الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے کر گاڑیوں کے اخراج کو کم کرنے، روف ٹاپ شمسی توانائی کی حوصلہ افزائی کرنے، سولر منی گرڈز قائم کرنے، اور صاف توانائی کے اقدامات کی حمایت کے لئے ایک فنڈ بنانے کا عزم کیا ہے۔ اس فارمولے میں دلچسپ چیز، شمسی، ہوا اور جوہری توانائی کے ساتھ تھر کے کوئلے کا فروغ ہے۔ جہاں شمسی اور ہوا کی توانائی صاف ذرایع کی نمائندگی کرتی ہے، تھر کے کوئلے پر انحصار اس مقصد سے متصادم ہے۔

پیپلز پارٹی کا نئی گرین ڈیل کا وعدہ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جو پہلے 2022-23 میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومتی اتحاد کا حصہ تھی، نے 27 جنوری کو اپنا انتخابی منشور پیش کیا۔ “چنو نئی سوچ کو” کے عنوان سے تیرہ سیکشن پر مشتمل اس منشور کے سرورق پر وزارت عظمیٰ کے امیدوار بلاول بھٹو کی تصویر ہے۔ 

35 سالہ بھٹو، جو 2022-23 تک وزیر خارجہ رہے، نواز شریف سے 39 سال چھوٹے ہیں۔ ان کے والد نے بطور صدر اور ان کی والدہ اور نانا دونوں نے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 25 جنوری کو اے پی کے ساتھ انٹرویو میں، بھٹو نے عوامی اور سیاسی گفتگو میں موسمیاتی تبدیلی پر ناکافی زور دینے پر افسوس کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کی شیری رحمان گزشتہ حکومت میں وزیر ماحولیات رہ چکی ہیں۔

پی پی پی نے گرین نیو ڈیل کا وعدہ کیا ہے، جوکہ پبلک سیکٹر میں موسمیاتی تبدیلی کی سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر مرکوز ہے۔ اس میں زور دیا گیا ہے کہ “پاکستان کے پبلک سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بشمول سڑکیں، مواصلات، صحت، آبپاشی، زراعت سبھی کو موسمیاتی لچک سے ہم آہنگ اور مرکوز کیا جائے گا،” اور یہ کہ بجلی کی فراہمی کے لئے دیسی اور گرین توانائی پر توجہ مرکوز ہو گی۔ ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سولر پارکس بنانے کا بھی عہد کیا گیا ہے، جس میں معاشی طور پر پسماندہ گھرانوں کو 300 یونٹس تک مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔

Pakistani politician Bilawal Bhutto
پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار، بلاول بھٹو، بھلوال پاکستان میں، 24 جنوری، 2024 کو ایک جلسے کے دوران۔ (تصویر بشکریہ انجم نوید / اے پی الامی )
Pakistani politician Nawaz Sharif
سابق وزیر اعظم نواز شریف 18 جنوری 2024 کو حافظ آباد، پاکستان میں ایک ریلی کے دوران اپنے حامیوں کو ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ کے ایم چودھری / اے پی الامی )

اپنے صحت کے سیکشن میں، پی پی پی “قومی آفات سے نمٹنے کے نظام سے منسلک موسمیاتی لچکدار صحت کی سہولیات” کے قیام کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ آب و ہوا سے متعلق چیلنجز کی نشاندہی خواتین کو متاثر کرنے والے اہم مسائل کے طور پر کی گئی ہے، جن کا اعتراف غربت اور حقوق کےسیکشنز میں کیا گیا ہے۔ پی پی پی انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کا عہد کرتی ہے۔ مزید برآں، منشور میں پانی کے تحفظ  کے لئے ایک سیکشن کو وقف کیا گیا ہے، جس میں موسمیاتی لچکدار بنیادی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ 

گرین نیو ڈیل سیکشن ایک زبردست اور فوری بیانیہ پیش کرتا ہے، “شمال میں گلیشیئر پگھلنے سے لے کر گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (گلوف) کو متحرک کرنے سے لے کر مختلف خطوں میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں، خشک سالی اور جنگلات  کی آگ تک، اس میں اب کوئی شک نہیں ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے وجود کے لئے لاحق ایک خطرہ ہے۔ اس میں پالیسی اقدامات پر تفصیلی حصے اور موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے لئے الگ الگ حصے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں بین الاقوامی موسمیاتی انصاف اور مالیات پر ایک سیکشن بھی ہے، جو نقصان اور تباہی کے فنڈ، بین الاقوامی شراکت داریوں اور موسمیاتی خطرات کے خلاف عالمی اقدامات پر روشنی ڈالتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف – سبز ماضی کو تھامے، ایک سرسبز مستقبل کے لئے پرامید 

تین بڑی جماعتوں میں سے آخری جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، یا پاکستان کی عوامی تحریک برائے انصاف، نے 28 جنوری کو اپنا منشور جاری کیا۔ 2022 میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے حکومت ختم ہونے  اور 31 جنوری 2024 کو اس کے بانی چیئرمین عمران خان کو ریاستی رازوں سے متعلق ایک کیس میں سزا کے بعد سے پی ٹی آئی اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔ اپنے دور (2018-22) کے دوران، پی ٹی آئی نے مخصوص ماحولیاتی پالیسیوں پر روشنی دہلی، خاص طور پر جنگلات کی بحالی کے پروگرام جسے دس بلین ٹری سونامی کہا جاتا ہے۔

10 بلین ٹری سونامی پروجیکٹ

پاکستان اکنامک سروے رپورٹ 2021-22 میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 2019-23 کے دوران   125 بلین روپے (  450 ملین امریکی ڈالر) کی کل لاگت سے 2019 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ ملک بھر میں 3.3 بلین پودے لگائے جا سکیں۔

مارچ 2022 تک، سروے کا کہنا ہے کہ 1,586 بلین پودے لگائے گئے تھے۔ پی ٹی آئی اگست 2022 میں اپنی حکومت کے خاتمے کو اس منصوبے کی عدم تکمیل کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

اپنے سیاسی چیلنجوں کے باوجود، پی ٹی آئی کے نئے چیئرمین گوہر علی خان کا جاری کردہ منشورطویل  ہے، اگرچہ اس میں تفصیلات مختصر ہیں۔ اس میں دس بلین ٹری سونامی اور آب و ہوا کے بانڈز کے اجراء کا اپنے دور حکومت میں اہم اقدامات کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پارٹی “معاشی ترقی کے ‘گرین’ ذرائع کو ترجیح دینے اور معیشت کو کلائمیٹ پروف  بنانے کے لئے پرعزم ہے، خاص طور پر زراعت کے شعبے پر توجہ دی جائے گی”

پی ٹی آئی کے منشور کا اختتام “موسمیاتی تبدیلی – ایک خاموش قاتل” نامی سیکشن سے ہوتا ہے، جس میں قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی، کم اخراج والی ٹیکنالوجیز کو اپنانے، کاربن کی قیمتوں کا تعین اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لئے حکومتی مراعات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کاربن پر مرکوز صنعتوں جیسے سیمنٹ اور سٹیل میں توانائی کی کارکردگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس کے بعد یہ تمام اقتصادی شعبوں میں عمل درآمد کے منصوبوں کی ایک سیریز اور ساتھ ہی مراعات کا آغاز کرتا ہے۔ اگرچہ تفصیل کا فقدان ہے، مجوزہ اقدامات کا اسکیل، جن میں اخراج کو کم کرنے کے لئے ایوارڈز سے لے کر 2028 تک قابل تجدید ذرائع سے 1 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنا شامل ہے، پارٹی کے غیر حقیقت پسندانہ موسمیاتی  ایجنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ایک بہتر کراچی کا عہد کررہا ہے

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) (ایم کیو ایم – پی) نے 5 جنوری کو قومی جماعتوں سے پہلے اپنا منشور جاری کیا۔ 20 ملین کی آبادی والا پاکستان کا  گنجان ترین شہر کراچی ایم کیو ایم – پی کا مضبوط گڑھ ہے اور اسکا ایجنڈا قومی بیانیے پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ منشور میں غیر حقیقت پسندانہ اہداف کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن میں سولر اور ونڈ پاور کے ذریعے کراچی کے لئے 100 فیصد بجلی کا حصول، 2035 تک قابل تجدید توانائی کو ملک کی نصب شدہ سپلائی کا کم از کم 35 فیصد تک لے جانا اور پانچ سالوں میں کراچی میں جنگلات کے رقبے کو 4 فیصد سے 8 فیصد تک دوگنا کرنا شامل ہے۔

منشور میں دریائے سندھ کے لئے بھی ایک سیکشن وقف کیا گیا ہے، جو اسے ایک زندہ وجود کے طور پر تسلیم کرنے اور اس کے آزادانہ بہنے کے حق کی وکالت کرتا ہے۔ تفصیلات کا زیادہ تر کا تعلق کراچی کی ساحلی پٹی پر پڑنے والے اثرات سے ہے، جس میں ایم کیو ایم – پی  کے منشور میں ساحل کی بحالی اور تحفظ پر بڑے پیمانے پر توجہ دی گئی ہے۔ 

دی تھرڈ پول سے بات کرتے ہوئے، ایم کیو ایم پی کے سینئر رہنما اور کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ منشور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے، “موسمیاتی تبدیلی ایک ابھرتا ہوا رجحان ہے اور اسے ایک مربوط نقطہ نظر کے ذریعے اس سے وابستہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مسلسل اور متواتر کوششوں کی ضرورت ہے۔”

اس مضمون میں عمیر احمد کے اضافی اقتباسات شامل ہیں۔