چترال گول نیشنل پارک میں ، ناقابل تصور واقعہ پیش آیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کشمیری مارخور کے شکار کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل ، علاقے میں غیر قانونی شکار کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ سب سے خراب بات یہ ہے کہ مجرم کوئی اور نہیں بلکہ قریبی دیہات کے لوگ ہیں۔ اسی برادری کے ممبر جنہوں نے اس خطرے سے دوچار پہاڑی بکری کی حفاظت کرنا تھی، جو 2015 سے IUCN کی ریڈ لسٹ میں ہے۔۔ 

پارک ایسوسی ایشن کے چیئر مین عالم زیب نے کہا ، "یہ اس ماہ میں دو بار ہوا ہے اور یہ دونوں بار پارک نگران ہی تھے جنہوں نے محکمہ جنگلات کو آگاہ کیا۔” نگران اور صوبے کے محکمہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے بھی دی تھرڈ پول کو بتایا کہ غیرقانونی شکار مقامی لوگ کررہے ہیں۔ 

سن 1984 میں ایک محفوظ قرار دیا گیا علاقہ، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں 77.5 مربع کلومیٹروسیع پارک  برفانی چیتے اور کشمیری مارخوروں کی سب سے بڑی آبادی کا گھر ہے۔ پارک ، جو پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے ، وہیں ایک شخص ملک کی چار قومی علامتیں دیکھ سکتا ہے۔ مارخور (قومی جانور) ، دیودار (قومی درخت) ، چکور (قومی پرندہ) اور جیسمین (قومی پھول)- 

ہنگول نیشنل پارک میں 31 سرکاری افراد کے ساتھ مل کر 16 کمیونٹی نگرانوں کو بغیر تنخواہوں  کے کام جاری رکھنے کے لئے  راضی کرنا  مشکل ہو رہا ہے -( تصویر بشکریہ غلام رسول )

1984 میں 50مارخوروں سے ،دسمبر 2019 میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق آبادی 4،000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ عالم زیب نے کہا کہ اس اضافے کا سہرہ بہت حد تک کمیونٹی چوکیداروں کو جاتا  ہے۔

 لیکن پچھلے ڈیڑھ سال سے ، پارک کے 13 کمیونٹی چوکیداروں کوماہانہ تنخواہ 15،000 روپے(90 امریکی ڈالر) ادا نہیں کی گئی ہے- یہاں دگنے نگران ہوتے تھے ، لیکن فنڈز کم ہونے کے نتیجے میں گزشتہ سالوں میں ان کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ 

لگ بھگ دو دہائیاں قبل ، یہ چوکیدار سرکاری ملازمت یافتہ محافظوں کے فرائض کی تکمیل کے لئے مقامی برادریوں سے بھرتی کیے گئے تھے۔ سرکاری ملازمین کو صوبائی محکمہ وائلڈ لائف ملازم رکھتا ہے، جبکہ کمیونٹی چوکیداروں کو سرکاری منصوبے کے تحت رکھا جاتا ہے۔ 

سن 1984 میں ایک محفوظ پارک قرار دیا گیا ، 77.5 مربع کلومیٹر طویل چترال گول نیشنل پارک مارخور ، دیودار کے درخت ، چوکور (تیتر) اور جیسمین کے لئے مشہور ہے – یہ تمام قومی نشان ہیں -( تصویر بشکریہ غلام رسول )

وہ تحفظ کی سرگرمیوں ، پارک کی منصوبہ بندی اور انتظام میں شریک ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک جدید نقطہ نظر کے طور پر سراہے گۓ، اس پروجیکٹ نے برادریوں کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے فوائد کے ساتھ محفوظ علاقے کی ملکیت دی۔ 

عالم زیب نےدی تھرڈ پول کو بتایا ، "معاشی فوائد نہ ہونے کے پیش نظر ، تحفظ اکثر سب سے پہلا نشانہ بنتا ہے۔” 

 نگرانوں کے فرائض میں دیہاتیوں کو لکڑی جمع کرنے یا مویشیوں کو چرانے ، درختوں کو کاٹنے یا شکار کرنے سے روکنا شامل ہے۔

"یہ پارک بہت بڑا ہے اور اس کی حفاظت کے لئے نگرانوں کی فوج کی ضرورت ہے”، اسلام آباد میں آباد ایک چترالی ٹریکر عمران سچہ  نے بتایا ، جو 1999 سے سال میں چار بار ٹور گروپوں کو پارک  لے کر جاتے ہیں ۔ "یہ دشوار خطہ ہے اور ان نگرانوں کا کام انتہائی سخت ہے۔ ” 

حکومت کی طرف سے مقرر کردہ گارڈ ، جس نے دی تھرڈ پول سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ، نے کہا ، "ان کی مدد کے بغیر ، اس کا مطلب صرف ہمارے لئے زیادہ  کام اور نگرانی کے لئے زیادہ علاقہ ہے۔” 

چترال گول نیشنل پارک میں ہی صرف مسائل نہیں ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے ہنگول نیشنل پارک میں سولہ کمیونٹی نگرانوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مچیارا نیشنل پارک میں 12 کو فارغ کیا گیا ہے۔ 

بہترین آئیڈیا جو ناکام ہوا

1999 میں ، عالمی بینک نے حساب لگایا کہ پاکستان آلودگی اور ماحولیاتی نقصان کی وجہ سے ہر سال جی ڈی پی کا 3٪ کے برابر نقصان اٹھا رہا ہے۔ اس سے پاکستان کے قدرتی وسائل کے تحفظ کی  شناخت فوری ترجیح کے طور پرہوئی۔ 

چنانچہ 2001 میں حکومت نے چترال گول ، ہنگول اور مچیارا قومی پارکوں میں پروٹیکٹڈ ایریاز منیجمنٹ پروجیکٹ (پی اے ایم پی) شروع کیا ،  جنہیں ایک آزادانہ تعین نے "ان کی جنگلی حیات کی تنوع ، مقامیت اور خطرہ کی ڈگری کی وجہ سے   خطرے سے دوچار اور عالمی سطح پر اہم” قرار دیا ہے۔ 

ہنگول نیشنل پارک میں غروب آفتاب، پاکستان کے 31 قومی پارکوں میں سے ایک ہے ، جو سن  1988 میں قائم ہوا ( تصویر بشکریہ غلام رسول)

اس مقصد کو حاصل کرنے کی کلید مقامی برادریوں کے ساتھ باہمی تعاون تھا- خیال یہ تھا کہ پارکوں کے آس پاس دیہات سے مقامی کمیونٹیز کو اکٹھا کریں اور انہیں فیصلہ کن کردار دیں۔ 

گلوبل انوائرنمنٹ فیسلٹی (جی ای ایف) ٹرسٹ فنڈ سے 10 ملین ڈالر کے گرانٹ فنڈ، اور ورلڈ بینک کی جی ای ایف کے ٹرسٹی کی حیثیت سے اس فنڈ کے ساتھ ، پی اے ایم پی 2003 سے 2009 تک لاگو کیا گیا۔ 

2009 کے بعد ، پارکوں کے پائیدار انتظام کے لئے وفاقی حکومت کیطرف سے ایک فنڈ فار پروٹیکٹڈ ایریا (ایف پی اے) قائم کیا گیا تھا۔

"یہ ایک تاریخی منصوبہ تھا ، نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی بینک کے لئے ، کیونکہ پہلی بار قومی پارکوں کے انتظام کیلئے محفوظ علاقوں میں اور اس کے آس پاس کی کمیونٹیز کو شامل کیا گیا”، سابق چیف محافظ اور کے پی کے محکمہ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے بانی محمد ممتاز ملک نے کہا ، جو فی الحال ایف پی اے کے چیئرمین ہیں- وہ فنڈز کا انتظام دیکھنے والے تین مستقل بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سے ایک ہے۔

 

2009 میں ، عالمی بینک کے انڈیپنڈنٹ ایویلوایشن گروپ نے پی اے ایم پی کو زیادہ تر مواقعوں پہ "معتدل حد تک اطمینان بخش” قرار دیا ، لیکن اصل اوقاف فنڈ میں اضافے میں اس کی کمزوری کی نشاندہی کی۔ 

پارک مینجمنٹ کی کوتاہیاں

برسوں تک ، ایف پی اے کی کارکردگی اچھی رہی-  مارچ 2018 میں چیف ایگزیکٹو کی ریٹائرمنٹ تک، گارڈز کی تنخواہوں اور دیہاتوں کے لئے ترقیاتی فنڈز (سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور پانی کی فراہمی کی اسکیمیں اور صفائی ستھرائی میں بہتری )  باقاعدگی سے ادا کیے جاتے رہے-

ملک نے کہا ، "ان چوکیداروں کو تنخواہ نہیں دی گئی ہے کیونکہ نئے چیف ایگزیکٹو  کوپچھلے 18 مہینوں میں اخراجات کی مد میں فنڈز کی منظوری کے لئے اجلاس طلب کرنے کا وقت نہیں ملا ہے۔” 

ایف پی اے کے عبوری چیف ایگزیکٹو ، محمد سلیمان خان وڑائچ نے دی تھرڈ پول کو بتایا: "ہم کمیونٹیز کو ہونے والے نقصان سے بخوبی واقف ہیں اور   ایف پی اے بورڈ کی تشکیل نو کےساتھ، برادریوں کے بقایا جات کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی قرارداد کی منظوری  کی اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔”

وہ پر امید تھے کہ 2020 کے آخر تک "سب کچھ اپنی جگہ پر ٹھیک  ہو جاۓ گا”۔

تحفظ جمود کا شکار

تنخواہوں کے بغیر ” کمیونٹی محافظوں کو کام جاری رکھنے کیلئے راضی کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے”، محکمہ جنگلات اور محکمہ جنگلات کے نائب کنزرویٹر راجہ آصف لطیف نے کہا- 

وہ مکران کے ساحل کے ساتھ ساتھ 6،100 مربع کلومیٹر طویل ہنگول نیشنل پارک کا انتظام دیکھتے ہیں ، جو یوریل بھیڑ ، آئبیکس ، چنکارہ غزال اور سینکڑوں رینگنے والے جانوروں کی اقسام کا گھر ہے۔

چترال گول نیشنل پارک: "معاشی فوائد کے بغیر ، تحفظ مفقود ہوجاتا ہے”، پارک ایسوسی ایشن کے چیئرمین عالم زیب نے کہا  (تصویر بشکریہ غلام رسول )

"انہیں جلد ادائیگی کے مسلسل دلاسے دیتے رہنا غیر منصفانہ ہے”،  مچیارا پارک ایسوسی ایشن کے میر اورنگ زیب نے کہا- انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر کمیونٹی کے نگران  اپنا کام بند کردیں گے تو ، پارک کے نایاب چکوروں کی غیر قانونی شکار پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ 

حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ کمیونٹی نگران  اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

"ایک بار جب آپ کو اس زندگی کا مزہ مل جائے تو آپ بھیڑ ، شور اور کنکریٹ کے جنگلوں میں ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔” 46 سالہ رحمان الدین نے بتایا ، جو چترال پارک میں 10 سال سے زیادہ عرصے سے چوکیدار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں- 

لیکن جیسے کہ  اندرونی تنازعہ بدستور جاری ہے ، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی رضاکارانہ کوششیں رک جائیں گی اور تحفظ کے لئے کمیونٹیز کو راضی کرنے کی تمام فوائد ضائع ہوجائیں گے- 

مقامی برادریوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے دو دہائیوں کے عرصہ میں مقامی ، صوبائی ، قومی اور بین الاقوامی تحفظ پسندوں نے انتھک کوششیں کی ہیں اور یہ سب ختم ہوجائے گی”، لطیف فکرمند ہیں- 

ماحولیاتی مشاورت کا کام انجام دینے والی ایک کمپنی ، ہیگلر بیلی پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر وقار زکریا نے کہا ، "سب سے خراب کام جو وہ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ محفوظ علاقوں کی حفاظت اور انتظام کے لئے کمیونٹیز کے ساتھ دیرینہ انتظامات کو روک دیاجائے۔ زکریا نے حکومت کی ملک میں متعدد قومی پارکوں کے قیام میں مدد کی ہے۔

سیکھا گیا سبق

پی اے ایم پی کے تحت ایک اچھا ماڈل ، جو مثالی طور پر اور جگہوں پہ دہرایا جاسکتا تھا، آج اپنی کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ 

ماحولیاتی وکیل سارہ حیات نے قومی پارکوں پر حکومت کے ارادے پر سوال اٹھایا۔ "قومی پارکوں کا انتظام صرف تبھی موثر ہوگا اور ان کے نگراں کارکنوں کے ساتھ منصفانہ سلوک ہوگا  جب  کنٹرول آئینی طور پر مجاز حکام کو سونپا جاۓ”، حیات کہتی ہیں- 

ہنگول نیشنل پارک:   صرف تنخواہ ہی بند نہیں ہوئیں۔ سڑکوں کی تعمیر اور مرمت ، پانی کی فراہمی ، بہتر صفائی ستھرائی کے لئے دیہات کے ترقیاتی فنڈ بھی روک دیۓ گۓ ہیں- ( تصویر بشکریہ غلام رسول )

حکومت کے حالیہ اعلان کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ گرین اسٹیمیولس ویژن کے پارٹ کے طور پر اپنے پروٹیکٹڈ ایریا انیشی ایٹو کے تحت 15 قومی پارکوں کی حفاظت کرے گی ۔ حیات مزید کہتی  ہیں کہ 5000 نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا اعلان کرنا بے معنی ہے اگر "بیوروکریٹک رکاوٹیں آپ کو موجودہ ملازمین کو ان کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کرنے دیتیں۔”

زکریا کے مطابق ، پی اے ایم پی ایک نیک نیت والا منصوبہ تھا ، لیکن ، کچھ استثناء کے ساتھ ، پاکستان میں زیادہ تر قومی پارکس "کاغذی پارکس” ہی رہ گۓ ہیں۔ 

"سیاسی قیادت اور جنگلات اور جنگلی حیات کے محکموں کو اپنے اندر ماحولیاتی نظام اور لینڈ اسکیپ کی قدر پیدا کرنا ابھی باقی ہے جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں” – 

"اگر آئندہ نسلوں کے لئے زندگی سے بھرپور ماحول چھوڑ کر جانا ہے تو درختوں سے جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کی طرف رہنماؤں کی سوچ میں تبدیلی اور ادارہ جاتی سطح پر بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے "، زکریا نے آخر میں کہا-

زوفین ابراہیم تھرڈ پول پاکستان کی ایڈیٹر ہیں اور @zofeen28  پر ٹویٹ  کرتی  ہیں-

3 comments

  1. Nice and timely article. National Parks have become a joke here. The new managers should be taught what is concept of a NP and how NPs are managed by showing them NPs in the USA. Deosai and Saiful Maluk are also NPs. See the destruction of those two gems going on. I hope they keep the bureaucrats away from NPs. The moment you leave something to bureaucrats to manage, it will be destroyed.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.