بندرگاہی شہر کراچی سے 400 کلومیٹر مشرق میں واقع تھرپارکر میں ، صحرا کی سرزمین کے ساتھ ، مقامی کمیونٹی کے معاشرتی تانے بانے کو بھی ادھیڑا جارہا ہے تاکہ زمین کے اندر سےکوئلہ  نکالا جا سکے۔ 

یہ ایک 68 صفحات پر مشتمل رپورٹ کی دریافت ہے جو گذشتہ سال پاکستان کے نیشنل کمیشن برائے ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) نے جاری کی تھا ، جس کا عنوان ہے: تھر کول پروجیکٹ اور لوکل کمیونٹی ، ڈاکومنٹنگ ویوز اینڈ اسٹیک ہولڈرز ایکسپیرینسز- یہ ہر اس پڑھنے والے کے لئے ایک سنگین مطالعہ ہوگا جسے امید ہے کہ کوڈ 19 وبائی بیماری سے پاکستان کو اپنی معاشی پالیسی  ماحول دوست بنانے میں مدد ملے گی۔

اس رپورٹ میں کوئلے کی کان کنی کے نتیجے میں پانی کی آلودگی ، دھول آلودگی ، سبزے کی تباہی اور جنگلی حیات کے   نقصان سے لے کر زمین کے حصول اور ترقیاتی قوانین کی خلاف ورزی تک کے واقف اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جو چیز اسےمختلف بناتی ہے مسائل کو انسانی شکل دینا ہے- دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سےتھاریوں کے لئے سب سےتشویشناک بات کوئلہ نکالنا  کبھی نہیں  تھا ، لیکن اس سے مقامی برادری کے سماجی و ثقافتی تانے بانے میں جو شگاف  پیدا ہوں گے وہ زیادہ فکر کا با عث ہے۔ 

تھرپارکر – جو پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ اور خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں سے ایک ہے — کوئلے کے وسیح ذخائر کا مالک  ہے جسے ابتک ہاتھ نہیں لگایا گیا تھا- اس کے کوئلے کے میدان، جنہیں 13 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے ، اب  چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت تیار کیے جارہے ہیں- پہلے مرحلے میں ، 2015 میں کان کنی اور بجلی پیدا کرنے کا کام بلاک II میں شروع ہوا ، جہاں 1.57 ارب ٹن کوئلہ موجود تھا۔ 

این سی ایچ آر ، ایک آزاد ریاستی ادارہ ، تھرپارکر میں اس وقت سے معاملات کی بہت قریب سےمشاہدہ کر رہا ہے جب سے کان کنی کے عمل سے نکلنے والے کچرے کو تلف کرنے کی خاطر رزروائر  بنانے کے لئے زمین کے زبردستی حصول کے خلاف مقامی احتجاج شروع ہوا۔ 

 مقامی مشاورت اور فیلڈ ٹرپ کے نتیجے میں حتمی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ زمین اور فطرت محظ اشیاء تصرف بنا دینا کس طرح تنازعات کا باعث بنتی ہے۔ اس میں دیہاتیوں اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی اور ریاست کی نمائندگی کرنے والے شہری وکیلوں کی ٹیم کے مابین قانونی لڑائیوں کے نتائج بھی دکھائے گئے ہیں۔ 

اس رپورٹ میں ، کان کنی کی کمپنی ، ایک عوامی نجی منصوبے، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اور دوسرے ماہرین کے   نقطہ نظر کو شامل کیا گیا ہے اور اس کمیونٹی کی سفارشات کو بھی سامنے پیش کیا گیا ہے-  مصنفین نے بلاک II کےقریب اور آس پاس کے دیہاتیوں سے انٹرویو کیا ، یہ واحد بلاک جو اب تک مکمل ہوا ہے ، اور بلاک I میں رہائش پذیر دیہاتیوں سے غیر رسمی گفتگو بھی کی ، جہاں کان کنی شروع ہوچکی ہے۔ 

ثقافت کا نقصان

"یہ کمیونٹی صرف یہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی بھی ان کے علاقے سے کوئلہ نکالا ،” شریک مصنفین میں سے ایک مصنف، زینیا شوکت ، نے دونوں بلاکس میں دیہاتیوں کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ "وہ اپنی برادری اور  زمین سے بہت  گہرائی تک جڑے ہیں اور ترقی کے نام پر تجاوزات اور زبردستی انخلاء پر ناراض ہیں۔” "غیر مقامی لوگوں کی آمد ، نقل مکانی اور مقامی افراد کو کوئلے کی کمپنی میں  صرف  کم تر کام پہ رکھے جانے ” کا ذکر کرتے ہوئے  شوکت نے کہا کہ برادری کے بہت سارے خدشات سچ ثابت ہوۓ ہیں۔

اس رپورٹ میں ریاست اور کان کنی کی کمپنی کی جانب سے  لوگوں کے  ساتھ بےحس  رویے کو بھی سامنے لایا گیا ہے۔ 

مثال کے طور پر ، رہائشیوں نے اس بارے میں بات کی کہ علاقے میں آنے والے بیرونی لوگوں نے ان خواتین کی نقل و حرکت پر کیا اثر ڈالا ہے جو کنوؤں سے پانی لاتی ہیں ، ایندھن کے لئے لکڑیاں کاٹتی ہیں اور فصلوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں- "تھر کی خواتین سخت پردہ کرتی ہیں۔ خواتین کی نجیگی اور علاقے کا سماجی نظام متاثر ہوگا” رپورٹ میں کہا گیا – 

اسی دوران ، ” خودرو پودوں کی طرح بڑھتے مدرسے (دینی مکتب ، جنھیں اکثر مذہبی وسیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے)” مقامی لوگوں کیلئے پریشانی باعث ہیں۔ متعدد کیسز میں سیاسی عناصر نے فرقہ وارانہ خطوط کو منظم کرنے کے لئے ایسے دینی مدارس کا استعمال کیا ہے ، اور ایک ہندو اکثریت والے خطے میں ایسے اسکولوں کے اثرات خطرے کی گھنٹی ہیں جو صدیوں سے مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی میں زندگی گزار رہے ہیں”- 

 

یہ ترقی رہائشیوں کی زندگیوں میں اپنے ساتھ نئے دباؤ لائی ہے، اور انھیں بے آرام کردیا ہے [تصویر بشکریہ: زوفین ابراہیم]

بدعنوانی کے الزامات 

اگرچہ قومی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیں مقامی قانون سازوں کو رقم بھیجتی ہیں جو ترقی کے سالانہ بجٹ سے فنڈ وصول کرتے ہیں ، مقامی کمیونٹی نے محسوس کیا کہ ان سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ یہ رقم کیسے اور کہاں خرچ کی جانی چاہئے۔  نتیجتاً  اکثر یہ اخراجات دہراۓ جاتے ہیں- 

گورانو گاؤں کے  رہائشی لیلا رام مانجیانی نےتھرڈ پول کو ایک مثال پیش کی۔ “کوئلے کی کمپنی نے بے گھر ہونے والوں کے لئے نئے سہنری درس گاؤں کے قریب بالکل نیا پرائمری اور سیکنڈری اسکول تعمیر کیا ہے۔ لیکن  وہاں ایک درجن سے زیادہ طلبہ نہیں جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے درخواست کی  تھی کہ کوئلہ کمپنی دو موجودہ پرائمری اسکولوں کو اپ گریڈ کرے جہاں تقریبا 80 بچے سیکنڈری سطح تک تعلیم حاصل کرتے ہیں- منجیانی ، جو ایک وکیل  بھی ہیں ، نے کہا ، "لیکن کسی نے بھی ہماری درخواستوں پر توجہ نہیں دی۔” نیا اسکول ان دو موجودہ پرائمری اسکولوں سے تقریبا 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ، جہاں بس نہ ہونے  کی وجہ سے  گاؤں کے بچوں کا اس تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے- 

مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ضلعی انتظامیہ اور اراکین اسمبلی نے ان کے لئے ملنے والے فنڈز غبن کیے ہیں۔ "صوبائی اور ضلعی حکومت کے عہدیداروں ، سول سوسائٹی ، منتخب نمائندوں اور عام شہریوں پر مشتمل ایک شراکتی بااختیار فورم کا قیام کیا جا رہا ہے جو منی ٹریل پر اور جہاں رقم خرچ ہوتی ہے اس پر نگاہ رکھنے میں مدد کرے گی”، بلاک II کے کوئلے کی کمپنی کے لئے ماحولیاتی اثرات کی تشخیص کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور سماجی اثرات کی تشخیص کرنے والی فرم ، ہیگلر بیلی کے وقار ذکریا نے کہا۔ 

زکریا کہتے ہیں کہ  ایک میگا پروجیکٹ قیام کے دوران مقامی افراد کی "شکایات کا ازالہ” ریاست کی ایک لازمی ذمہ داری ہے ۔ تاہم ، ریاست نے بڑی حد تک یہ ذمہ داری کمپنی کوسونپ دی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ، "لوگوں کی ترقی اور منصوبے کی ترقی کو دو الگ الگ امور کے طور پر دیکھا گیا”، جب کہ دونوں پر باہم مل کر کام ہونا چاہئے۔ 

مقامی معاشرتی اور معاشی مشورے کے ماہر جان محمد نے، جنہیں  ہگلر بیلی کے ذریعہ کمپنی کی جانب سے معاشرتی اور معاشی مشاورت کے لئے مامور کیا گیا، تھرڈ پول سے کچھ معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا- 

"عام طور پر جب میں ان کے ساتھ اپنی باضابطہ بات چیت ختم کرلیتا  تھا تب بہت سے گاؤں والے کھل کر بات کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اپنی زمین کے معاوضے کے طور پر وصول ہونے والی اتنی رقم کبھی نہیں دیکھی تھی  اور نہ جانتے تھے کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ کچھ لوگوں نے آس پاس کے شہروں اسلام کوٹ اور مٹھی میں مکانات خرید لئے ، اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کیا۔ دوسروں نے یہ سب کچھ جیپوں اور موٹرسائیکلوں پر صرف کیا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے دوسری بار شادی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو رقم کی سرمایہ کاری کے اسمارٹ آپشنز میں ان کی مدد کرنی چاہئے تھی۔ 

صرف  پیسہ ہی  کافی نہیں 

زکریا نے کہا ، "ممکن ہے کہ تھاریوں کو کوئلے کی کان کنی سے فائدہ ہوا ہو ، کیونکہ انہیں اچھا معاوضہ دیا گیا تھا۔” تھر اینگرو سے تعلق رکھنے والے ایک جواب دہندہ کے مطابق ، "ہم محکمہ محصولات کو رقم جمع کردیتے ہیں۔ دعویدار اس کے دفتر میں اپنے دعوے جمع کراتے ہیں اور مناسب ادائیگی وصول کرلیتے ہیں- انہیں فی ایکڑ   لگ بھگ 225،000-290،000 روپے (1،350-1،740 امریکی ڈالر) ملتے ہیں۔ حکومت عام طور پر قیمت ماضی کے لین دین کی بنیاد پر طے کرتی ہے- پاکستان کی فی کس جی ڈی پی 1،400 امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔

Land compensation has brought money to an impoverished region, but it has come with other pressures [image by: Zofeen T. Ebrahim]

اراضی کے لئے معاوضہ ایک غریب خطے میں پیسہ تو لایا ہے ، لیکن ساتھ ہی یہ دوسرے مسائل بھی لایا ہے -[تصویر بشکریہ: زوفین ابراہیم]

اس کے باوجود ، رقم  کا صحیح استعمال سے لاعلمی نے لوگوں کی زندگی اور معاش پر نئے دباؤ کے ساتھ مل کر، نۓ مسائل کھڑے کردیے- یہی وجہ ہے کہ گورانو میں کان کنی کے مقام سے 25 کلومیٹر دور رزروائر کی تعمیر کے لئے کمپنی کے علاقائی اراضی پر قبضہ کرنے کے خلاف سال بھر کے احتجاج نے ایک بدصورت موڑ لیا۔ 

کمپنی کا کہنا ہے کہ 1،400 ایکڑ اراضی لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت قبضہ میں لی گئی ہے ، جو حکومت کو عوامی مقصد کے لئے زمین حاصل کا اختیار دیتی  ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ  اپنی جدّی پشتی علاقائی زمین سے بے دخل ہوگئے ہیں۔ جہاں وہ مویشی چراتے اور کنوؤں سے پانی نکالتے تھے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ریاست نے مخالفت کو ختم  کرنے کے لئے  "آمرانہ طریقہ” اختیار کیا۔ کارکنوں کو دھمکیاں دی گئیں اور کمپنی نے کہا کہ وہ فوج طلب کرے گی۔ 

کانکنی روک  دیں 

رپورٹ کے مصنفین کے ساتھ ایک انٹرویو میں ، انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سابق سکریٹری جنرل ، آئی اے رحمان نے کہا: "قوانین لوگوں کے حقوق منسوخ نہیں کرسکتے ہیں ،” اور اس طرح سے اراضی کے حصول کے لئے حکومت کے کو طریقہ کار کو  "استحصالی” قرار دیا۔ 

دیہی ترقی کے ماہر اور تھرپارکر کے رہائشی سونو کنگرانی نے وضاحت کی کہ کان کنی سے املاک کی قیمتوں میں  اضافے اور روزگار پیدا ہونے ک یشکل میں مثبت اثرات مرتب ہوۓ ہیں کیونکہ یہاں اب ہوٹل ، ریستوراں اور پیٹرول اسٹیشن بھی کھل گۓ ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر یہ فوائد تھر کے لوگوں تک نہیں پہنچے۔ انہوں نے کہا ، "اس منصوبے میں حصہ دار سیاستدان اور بیوروکریٹ ہیں۔” 

اس رپورٹ میں لوگوں کی ضروریات کو بھی پیش کیا گیا ہے ، جس میں زرعی مقاصد کے لئے پانی کی ترسیل کے لئے نہروں کی تعمیر ، پینے کے پانی کے لئے پائپ لائن بچھانے ، ایک فوڈر بینک اور چراگاہوں  کا تحفظ شامل ہیں۔ رپورٹ چاہتی ہے کہ حکومت کمیونٹی کی ترقی کے لئے منصوبے کے بجٹ کا 2٪ مختص کرے اور کہا کہ حکومت کو ایک ایسی زمین آبادکاری کی پالیسی وضع کرنی چاہئے جو منصفانہ اور مساوی ہو اور مقامی لوگوں کے اپنی زمینوں پر دعوے کومحفوظ رکھے۔ 

لیکن رپورٹ میں یہ  واضح ہے کہ تھر کوئلے کے منصوبے کے دوسرے بلاکس پر کام بند کردیا جائے۔ اس مشق سے ایک اہم سبق سامنے آیا ہے: ایسے منصوبے جن میں برادریوں کا اتفاق رائے نہیں ہوتا ہے انہیں آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔

One comment

  1. CLARIFICATION: Locals urge Pakistani government to drop CPEC coal mining plans
    Apropos the news article appearing in the online edition of The Thirdpole, Sindh Engro Coal Mining Company (SECMC) clarifies that the Company believes in deploying an inclusive model of development for the Thar coal projects. Contesting the claim of Leela Ram Manjiani – a resident of the Gorano village – the Company would like to clarify the misrepresentation of facts regarding the development of schools in the village. It is important to note that the school in New Senhri Dars is built for the residents of the township and the nearby population. The school has a capacity to accommodate 1,000 students whereas a secondary section has been started recently to facilitate local population because there is no such facility available in the area. Moreover, through its CSR wing – Thar Foundation – SECMC manages a total of 24 school units in Block II and Tharparkar area with a total enrollment of 2500 students who all receive free of cost education with provision of books, uniforms and stationery. In addition, two primary schools have also been constructed in the Gorano area with capacity of 180 students each while all teaching staff has been hired from local villages, who have been trained to impart quality education to the local students.
    SECMC would also like to add that it operates with a social code that focuses on the needs of the people – as highlighted by the report. The news article raises the point that various amenities need to be provided to the locals such as provision of water for agricultural purposes; availability of drinking water; fodder bank and grazing grounds amongst others. The Company has already taken affirmative action to provide these facilities to the local population by constructing and operationalizing 18 Reverse Osmosis plants providing WHO-compliant drinking water to over 40,000 locals with 05 RO plants dedicated to Gorano area alone; successfully running bio-saline agriculture experiments and training local farmers on these innovative practices; provision of healthcare facilities and a dedicated 250-bed hospital with a functional OPD as of now; distribution of ~1.6 million kgs of fodder to locals – benefitting over 21,000 households – and also providing 850 acres of community grazing land at new Senhri Dars village. Furthermore, the Company continues to monitor the water levels in wells across Gorano and it is important to note that these wells to date have not been impacted at all in terms of quality and quantity.
    The news article quotes that the communities have been forced to relocate. This is an incorrect assumption. As part of the resettlement arrangement, as of now only one village – New Senhri Dars – has been relocated which comprises a total of 172 households. These households have been resettled in the new village with all basic and modern amenities of life with each household entitled to receiving a lifetime compensation of PKR 100,000 per year from SECMC. It is also critical to mention that the villagers had been involved in the process since beginning through a participatory form of mobilization where their inputs were sought at each stage of the resettlement including construction of the new village.
    SECMC believes in balancing the agenda of national economic growth by harnessing indigenous energy sources alongside its focus on deploying meaningful initiatives in Thar to promote social welfare of the locals.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.