ایک تیزگڑگڑاہٹ سی ہوئی اور پانی تیزی سے مٹی اوربڑے بڑے پتھروں سمیت نیچے بہنے لگا۔ خوف کے مارے سارے گاﺅں والے باہر نکل آئے تھے-” حسن آباد گاﺅں کے منظور حسین نے بتایا۔

یہ گاﺅں پاکستان کے شمال میں ہندوکش ہمالیہ کی وادی ہنزہ میں واقع ہے-

یہ 30 مئی 2020 کی دوپہر تھی ،لوگ سستا رہے تھے جب یہ تیز گڑگڑاہٹ فضا میں ابھری تھی-

"یہ پہلی بار نہیں تھا اس لیے لوگ اس آوازکو پہچانتے ہیں۔ وہ جان گئے تھے کہ اوپر پہاڑوں میں ششپر گلیشئرمیں کوئی جھیل پھٹی تھی ۔“منظور نے کہا۔

یہ تیز آوازوادی ہنزہ میں حسن آباد کے قریب ماچوہر گلیشئر میں جھیل پھٹنے کی تھی، جس سے پانی تیزی سے نیچے کی طرف آیا جس سے کھیت، مقامی بجلی گھر اورقراقرم ہائی وے کا کچھ حصہ زیر آب آگیا۔ اس حادثے کے بعد گاﺅں کے بیشتر لوگوں نے رات امدای کیمپ میں گزاری۔

کیا یہ گلیشیائی جھیل پھٹنے کا واقعہ تھا اور پانی کے اس بڑے ذخیرے سے پانی قدرتی طور پرنشیب کی جانب بہنے میں کیوں ناکام رہا ؟اس سوال کا جواب کچھ پیچیدہ ساہے کیونکہ قراقرم خطے میں بہت سے گلیشئروں کی نقل و حرکت میں بے قاعدگی پائی جاتی ہے جسے قراقرم اناملی کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ ہمالیہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں گلیشئر پگھل رہے ہیں جبکہ ا س کے برعکس قراقرم کے گلیشئر بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کی آرا بھی اس حوالے سے منقسم نظر آتی ہے۔

 

 سیلاب سے مقامی بجلی گھر اور قراقرم ہائی وے کے کچھ حصے زیر آب آگئے (تصویر بشکریہ ظہیرالدین بابر)

ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی گلگت بلتستان میں گلوف کے فوکل پرسن ظہیرالدین بابر کا کہنا ہے کہ حتمی طور پر اس واقعے کو ہم گلوف سے نہیں جوڑ سکتے۔ پاکستان کے فضائی تحقیق کے ادارے سپارکو کی سیٹ لائٹ سے لی گئی تصاویر میں کسی گلیشیل جھیل کی نشان دہی نہیں ہورہی تھی۔ یہ ماچوہر گلیشئر کی سطح پر بننے والی کسی جھیل کا پانی ہوسکتا ہے کیونکہ پانی کی رفتار کم یعنی صرف 3,000 کیوسک (کیوبک فیٹ پر سیکنڈ ) تھی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہندوکش ہمالیہ خطے میں ایک گلیشیائی جھیل پھٹنے سے پانی کی رفتار ایک لاکھ کیوسک تھی ۔

گاﺅں والے خوف زدہ تھے کہ کہیں 30 مئی کو بہنے والا پانی کسی گلیشیائی جھیل کا نہ ہو کیونکہ ایسا ہی ایک واقعہ 2019 میں رونما ہو چکا تھا، جب 1.5کلومیٹر رقبے پر واقع جھیل پھٹی تھی۔ اس واقعے میں قراقرم ہائی وے کا ایک بڑا حصہ، ایک پل، دو بجلی گھر کئی دفاتر ، سوسے زیادہ گھر اور پانی کی فراہمی کا نظام زیر آب آگیا تھا۔

ششپر ایک حرکت پزیر گلیشئر ہے جو اس صدی کے آغاز میں وجود میں آیا تھا جب وادی ہنزہ کے شمال میں واقع حسن آباد گلیشئر دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ حسن آباد گلیشئر کا ایک حصہ ششپر اور دوسرا ماچوہر گلیشئر کہلایا۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ ءحرارت میں اضافے کے باعث ہندو کش ہمالیہ کے دیگر گلیشئروں کی طرح ماچوہر بھی پگھل رہا ہے۔ دنیا کے اس بلند اور نسبتا کم عمر خطے جو افغانستان سے میانمار تک پھیلا ہوا ہے، میں 15,000 سے زائد گلیشئرز موجود ہیں اور یہ تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے کیونکہ گلیشئر پگھلتے اور ٹوٹ کر کئی حصوں میں بھی بٹتے ہیں۔

ماچوہر اور ششپر دونوں متوازی گلیشئر ہیں جن کی حرکات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ششپر گلیشئر تیزی سے حرکت کررہا ہے جبکہ ماچوہر اور اردگرد کے گلیشئر پگھل رہے ہوں تو عجیب صورت حال سامنے آتی ہے۔ ظہیرالدین بابر کے مطابق ششپر ایک تیز حرکت کرنے والا گلیشئر ہے اور صرف دو سالوں -192018 میں سرک کر دو کلومیٹر آگے آچکا ہے۔ اس کی حرکت نے ماچوہر گلیشئر کا راستہ بند کردیا تھا جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں گلیشئر کے پگھلنے سے اس کے دہانے پر جھیل بن گئی تھی جس میں پانی بڑھتا رہا اور وہ بالآخر تیس مئی کو پھٹ گئی۔ ماچوہر گلیشئر کا راستہ بند ہونے کا مطلب دریائے ہنزہ میں پانی کا بہاﺅرک جانا ہے، دریائے ہنزہ دریائے سندھ کا معاون دریا ہے۔

زاہد حسین جو گلوف ون میں فیلڈ منیجرتھے ، کہتے ہیں کہ وادی بگروٹ میں بھی واقع یونے گلیشئرگذشتہ دہائی کے دوران ریکارڈ حد تک آگے بڑھا ہے اور دوسری طرف موجود گرگو گلیشئر کو بلاک کرچکا ہے۔ جہاں دونوں گلیشئرز ملتے ہیں وہاں پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑا خلا وجود میں آگیا ہے جس میں جھیل ( گلوف)بننے کا خطرہ موجود ہے جو کسی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ محمد ریاض کے مطابق قراقرم کے پہاڑوں میں 3000 گلیشیائی جھیلیں پائی جاتی ہیں اور ان میں34-36 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

گلیشئرز سرجنگ کا خطرہ

ماچوہر گلیشئر کے دہانے پر ایک جھیل بن چکی ہے جس کا حجم بتدریج بڑھ رہا ہے ( تصویر بشکریہ شیر محمد)

"لیکن گلوف سے بڑا خطرہ گلیشئرکی حرکت پزیری ہے۔“ انٹر نیشنل سینٹر فار اینٹی گریٹڈ ماﺅنٹین ڈیولپمنٹ کے ہیڈکوارٹر نیپال سے وابستہ گلیشئر کے ماہر ڈاکٹر شیر محمد نے خطرے کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قراقرم کے خطے میں تقریبا 200 گلیشئرز ایسے شناخت کیے گئے ہیں جن میں حرکت پزیری پائی گئی ہے۔ یہ گلیشئر قراقرم کے کل رقبے کا چالیس فیصد

ہیں۔ (7,700 Sq/km)

ڈاکٹر شیر محمد مزید بتاتے ہیں کہ قراقرم خطے میں گلیشئروں کے سرکنے یا آگے بڑھنے کی بالکل درست وجہ تو بتائی نہیں جاسکتی کیونکہ اس کا بظاہر کوئی تعلق برف باری میں بے قاعدگی یا حرارت کے گھٹنے بڑھنے سے نہیں ہے مگر یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ شدید موسم اور موسمیاتی تبدیلیاں اس کی حرکت پر اثرانداز ہوسکتی ہیں مثلا اس کی شدت ، اورپگھلاﺅ میں اضافہ، سطح پر دراڑیں نمودار ہونا اور گلیشئر کے حجم میں اضافہ جیسی تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر آصف خان، موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہر اور

Intergovernmental Panel on Climate Change’s sixth assessment report

کے مصنف ہیں، کہتے ہیں گلیشئر کا سرکنا ایک قلیل مدتی واقعہ ہے جس میں وہ اپنی نارمل حرکت سے دس سے سو گنا تیز حرکت کرسکتا ہے۔

ڈاکٹرشیر محمد یہ بھی کہتے ہیں کہ تیس مئی کا واقعہ یقینا موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے کیونکہ درجہ ءحرارت بڑھنے سے گلیشئر کے پگھلنے کی رفتار بڑھ گئی ہوگی اور جھیل میں پانی زیادہ ہوگیا ہوگا۔ محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار کے مطابق مئی کے آخر میں وادی ہنزہ شدید گرمی کی لپیٹ میں تھی۔ اب جبکہ جون کا مہینہ آدھا گزر چکا ہے لیکن اس جھیل سے پانی ابھی تک بہہ رہا ہے اورمٹی پتھروں سے اس کا راستہ بھی بند نظر آتا ہے جس سے ایک اور سیلاب کا خطرہ سر پر منڈلاتا نظر آرہا ہے۔

 مئی کے مہینے میں درجہ ءحرارت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا جس سے مئی کے آخر میں وادی ہنزہ میں سیلاب آیا (تصویر بشکریہ منظور حسین)

اسلام آباد کے ایک ادارے گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر(GCISC) سے وابستہ ڈاکٹر شوکت علی جوموسمیاتی تبدیلیوں کے ماہرین میں شامل ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ گلیشئروں کا سرکنا ایک ایسا مظہر ہے جس پر تیز بارشیں اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قراقرم خطے میں گلیشئروں کی بے قاعدگی بھی ششپر گلیشئر کی حرکت اور بڑھنے پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ہماری ریسرچ کے مطابق گوپس، دروش، چترال اور گلگت مستقبل میں اکیس ویں صدی کے گرم ترین علاقے بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شوکت نے یہ بھی بتایا کہ گلیشئروں کی حرکت پزیری مستقبل میں پاکستان کے آبی وسائل پر بھی نمایاں اثر انداز ہوسکتی ہے کیونکہ پاکستان کی زراعت اور معیشت مکمل طور پر انڈس بیسن کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ پاکستان کی زراعت کا ملک کی جی ڈی پی میں 22% حصہ ہے اور 45% لوگ براہ راست یا بالواسطہ زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر شوکت علی نے مزید کہا کہ گلیشئروں کا تیز پگھلاﺅ خطے میں گلیشیائی جھیلوں اورتیز سیلاب کا سبب بن سکتا ہے جو نشیب میں مختلف تنصیبات اور معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے –

 

شبینہ فراز

One comment

  1. First I don’t think it was 100000 cusic discharge and secondly a small water body has been seen at the point where last year a huge lake was formed by stoppage of Muchohar glacier ‘s discharge. The last year’s discharge might have created some vacuum or holo space under the glacier that accumulated water during the period of last one year which ultimately burst out on 30th May. Because the amount of water discharged was much more than the discharge of last year. And at that time a huge lake of about 1.5 kms was clearly visible behind the Shishper. And if this much amount of water was accumulated on the top of the glacier in shape of ponds it must have been detected in satellite images. So I’m of the opinion that this water body that busted in to flood was under this Muchohar glacier.
    I don’t know how to attach pictures or graphs otherwise I would tag you few from last year.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.