صوبہ خیبر پختون خواہ، پاکستان کی وادئ چترال کے ایک زمیندار خاندان کے سربراہ نستر آزاد صاحب، موجودہ صورتحال سے خاصے دل برداشتہ ہیں- ان کی زمینوں پر موجود پھلوں اور شاہ بلوط کے درخت، گولان گول ہائیڈرو پاور پروجیکٹ چترال (GGHPC ) کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کی غرض سے کاٹ دیے گۓ-

"ایک وقت تھے جب شاہ بلوط کے درخت ہماری شان تھے، لیکن اب ہمارے لئے کچھ نہیں بچا”، آزاد کہتے ہیں-

کے ساتھ نصب ٹاور-  (تصویر بشکریہ چترال کے مقامی باشندے  

ترقیاتی کام کے نتیجے میں تباہی کے نشان- (تصویر بشکریہ چترال کے مقامی باشندے )

انکا کہنا ہے کہ ان خاندانی زمینوں پر ان کے آباواجداد نے یہ درخت لگاۓ تھے- ان درختوں کو پروان چڑھنے میں ایک صدی سے زیادہ کا وقت لگا لیکن واپڈا کے ٹھکیداروں نے بےرحمی کے ساتھ یہ درخت کاٹ ڈالے، حالانکہ عدالت میں اس کارروائی کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی گئی تھی-

انہوں نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ تیرہ سو درخت کاٹ دیے گۓ ہیں، جن میں سے دو سو ترپن درخت شاہ بلوط کے تھے- انکا خاندان ابھی تک معاوضے کا انتظار کررہا ہے-

 

پڑھیے: پاکستان میں زیرو لوڈ شیدڈنگ : الیکشن کا تماشا یا طویل مدّتی حل ؟

 

پاکستان، ایک عرصے سے بجلی کی قلت کے مسائل سے نبرد آزما ہے- امید ہے کہ یہ پروجیکٹ اپنی تکمیل پر بجلی کی ترسیل میں ایک سو آٹھ میگا واٹ کا اضافہ کرے گا- لیکن یہ پروجیکٹ پہلے ہی تاخیر اور تنازعہ کا شکار ہے- اکتوبر 2016 میں، ایک سینئر جرمن کنسلٹنٹ نے استعفی دے دیا تھا، مبینہ طور پر ٹرانسمیشن لائنز کے حوالے سے ٹھیکیداروں نے انکا مشورہ نظر انداز کر دیا تھا-

واپڈا کے ذرائع کا کہنا ہے، GGHPC سے چاکدرہ گریڈ سٹیشن تک ٹرانسمیشن لائن 206 کلومیٹر طویل ہے، جس کے ساتھ 813 ٹاور تعمیر کیے گۓ ہیں- واپڈا حکام نے نجی زمینوں پر کاٹے گۓ درختوں کے اعداد و شمار نہیں دیے، انکا کہنا ہے کہ چترال  محکمہ جنگلات اور زراعت اس کا  تخمینہ لگا کرلوگوں کو معاوضہ دیں گے-

بنجر علاقہ چھوڑ کر آبادی کے بیچ ٹاور تعمیر کیے گۓ- (تصویر بشکریہ چترال کے مقامی باشندے )

چترال  محکمہ جنگلات اور زراعت نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو اس بات کی تصدیق کی کہ اخروٹ کے درخت کاٹنے سے پہلے محکمے سے این او سی لینا ضروری ہے- محکمے کے مطابق نہ واپڈا ناہی اس کے ٹھیکیداروں نے این او سی حاصل کیا ہے- محکمے کے پاس درختوں کی کٹائی سے متعلق کوئی اعداد و شمار نہیں- ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA)، خیبر پختون  خواہ سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا-

 

ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA)، خیبر پختون خواہ نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ واپڈا نے ماحولیاتی اثرات کی تشخیص (ای آئی اے) کی رپورٹ پیش نہیں کی تھی چناچہ GGHPC  کی ٹرانسمیشن لائن کے لئے این او سی حاصل نہیں کر سکتا- انہوں نے وضاحت کی کہ GGHPC کے لئے تو این او سی حاصل کرلیا گیا لیکن ٹرانسمیشن لائن کے لئے نہیں- جبکہ واپڈا کے حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے GGHPC اور ٹرانسمیشن لائن دونوں کے لئے این او سی حاصل کی ہے، لیکن باوجود درخواست کے انہوں نے نہ ماحولیاتی اثرات کی تشخیص (ای آئی اے) کی رپورٹ دکھائی اور ناہی کوئی اور اعداد وشمار دکھاۓ-

 

رپورٹوں کے مطابق ٹرانسمیشن لائن کے لئے 36،000 درخت کاٹ دیے گۓ ہیں– ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA)، خیبر پختون خواہ کے سابقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور گرین کنسلٹنسی کے موجودہ مینیجر جناب نعمان راشد صاحب کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 2014 کے مطابق کسی بھی قسم کے ترقیاتی کام کے لئے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) کے پاس ماحولیاتی اثرات کی تشخیصی رپورٹ جمع کرانا اور این او سی حاصل کرنا ضروری ہے، اور اس قانون کو لاگو کروانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے-

 

انہوں نے مزید کہا کہ اونچے ہمالیہ کے دامن میں موجود چترال پہلے ہی ماحولیاتی تباہی سے متاثر ہے- لینڈ سلائڈز اور سیلابوں کی وجہ سے  خاص جانی و مالی نقصان اٹھایا جاچکا ہے- اتنی بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی، خطّے کے نازک ماحول پر مزید دباؤ کا باعث بنے گا-

 

” چترال کا ماحول اور معیشت پر شاہ بلوط کا ایک اہم کردار ہے”، انہوں نے کہا، "یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے”-

فخر عالم خان بھی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے درخت کاٹ دیے گۓ- ” حکام کو ثبوت فراہم کرنے کے باوجود کہ میرے اخروٹ کے درخت محفوظ ہیں ان میں سے 72 درخت کاٹ دیے گۓ- کل ملا کر میرے 2600 درخت کاٹ دیے گۓ ہیں- ”

 

انہوں نے کہا، ” اخروٹ اور دوسرے پھلوں کے درخت ہمارے لئے اضافی آمدنی کا ذریعہ ہیں- صرف اخروٹ کے درختوں سے سالانہ کم از کم 2،256 امریکی ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے- یہ ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصّہ ہے- خاص کر برف باری کے موسم میں ہم ان کے پتے مویشیوں کی خوراک کے بطور استعمال کرتے ہیں اور لکڑیوں کو بطور ایندھن-”

 

آزاد صاحب، خان صاحب اور چترال کی مقامی برادری کے ارکان نے واپڈا پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ٹرانسمیشن لائن زرعی زمین سے گزاری ہے- عالم صاحب کا کہنا ہے،” ٹرانسمیشن لائن گزارنے کے لئے دریا کے کنارے کے ساتھ کافی بنجرزمین اور جگہ موجود تھی، لیکن واپڈا نے ہماری اپیلیں نظر انداز کردیں- ”

 

"میں نے واپڈا کو ٹرانسمیشن لائن کے لئے متبادل نقشہ پیش کیا تھا لیکن ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر نجی زمینوں کا انتخاب کیا گیا”، عالم صاحب نے مزید بتایا-

چترال کے فارسٹ آفیسر، محمّد شوکت کہتے ہیں کہ شاہ بلوط کے جن درختوں کو کاٹا گیا وہ کافی پرانے تھے- شاہ بلوط ایک  سال میں دو سے چھ انچ بڑھتا ہے اور انہیں ایک قدآور درخت بننے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں-

ٹرانسمیشن لائن کے لئے عالم صاحب نے یہ علاقہ تجویز کیا تھا-

واپڈا کو عالم صاحب نے یہ نقشہ دیا تھا-

اس پر مزید ستم یہ کہ چترال کے پندرہ ہزار مکینوں کو اس پاور پلانٹ سے بجلی فراہم نہیں کی جارہی

 

محمد زبیر خان اسلام آباد سے وابستہ ایک ماحولیاتی صحافی ہیں- وہ @hazarazubair  پر ٹویٹ کرتے ہیں-

 

One comment

  1. This is insane, generally the respility goes to Government and specifically EPA KP.
    Almost 29 years passed of establishment of EPA KP and need more 100 year to be matured for the department. We should have to prepare ourselves for more and more climate change effects

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.