Story: وہ بھی کیا دن تھے، جب ایک غریب آدمی دریا کے کنارے جاتا اور وہاں سے ریت اور بجری اپنے گدھے  پر لاد کرسڑک کے کنارے لاکر فروخت کردیتا تاکہ اپنے خاندان کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرسکے- لیکن اب یہ سرمایہ کاری، سیاسی رسوخ، پرمٹس اور دریائی تہوں کی تباہی کا ایسا کھیل بن گیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا-

دریائی نظام صرف بہتے پانی پر مشتمل نہیں ہوتا، بلکہ دریائی مٹی، کنکر، ریت، گول چکنے پتھر اور بڑے پتھر بھی پانی کے ساتھ بہہ کر دریا کی تہہ اور کناروں پر جمع ہوتے جاتے ہیں- مٹی کی منتقلی سے، دریا قدرتی مسکن کے تنوع کو برقرار رکھتا ہے جس پر دریا کی زندہ حیاتیات انحصار کرتے ہہیں- آبی کیڑے اور کائی چکنے پتھروں کے بیچ رہنے والی مچھلیوں کی غذا ہیں، یہ چکنے پتھر اور چٹانیں سردیوں اور سیلابوں میں مچھلیوں کو پناہ دیتی ہیں اور چھوٹی مچھلیوں کو شکاری جانوروں سے بچاتی ہیں- مچھلیاں سیلابوں کے دوران جمع ہونے والی دریائی بجری کی تہوں اور ذیلی چینلز میں انڈے دیتی ہیں- جہلم طاس کے دریاؤں کا ماحولیاتی نظام — پاکستان  اور بھارت بیچ سندھ طاس کے مشترکہ حصّے —- وہ  مخصوص ہمالیائی دریائی نظام ہیں جہاں کی مٹی  آبی زندگی کو بھی سہارا دیتی ہے اور سیلابی میدانوں اور طاس کے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کی روزی روٹی کا بھی انتظام کرتی ہے جو ان دریاؤں کے فراہم کردہ ماحولیاتی نظام پر انحصار کرتے ہیں-

دریائی مٹی  کی اہمیت اس حد تک ہے کہ، پاکستان اور بھارت کے بیچ دریاۓ سندھ کے آبی شراکت داری کے معاہدے، سندھ طاس معاہدے میں پانی کی طرح تلچھٹ کا حق بھی نشیبی آبادی کے لئے واضح طور پرتسلیم کیا گیا ہے- تلچھٹ روکنے اور اس کے اخراج کو معاہدے کے تحت ریگولیٹ کیا گیا ہے، اور بارہا معاہدے کے تحت ثالثی اور مباحثوں کا موضوع رہا ہے-

جہلم اور اسکے معاون دریا آبی وسائل کی دولت سے مالا مال ہیں- کشمیر کیٹ فش (گلیپٹو کشمیرنسز ) کی مثال لے لیں، جوکہ اپنی رہائش اور افزائش کے لئے من پسند جگہ چاہتی ہیں، اور اپنا گھر بنانے کے لئے انہیں بلکل مناسب سائز کے کنکر درکار ہوتے ہیں- اب یہ مچھلی ناپید ہوتی جارہی ہے- دیگر آبی نسلوں کا بھی یہی انجام ہوگا، جیسے پہلے ہی سے خطرے سے دوچار مہاسیر اور بعض مقامی آبی نسلیں جیسے کشمیر کی ہل-اسٹریم مچھلی، اور دور دراز سے ہجرت کر کے آنے والے آبی جانور جیسے نازک مزاج اسنو ٹراؤٹ- شہروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ، دریاؤں میں پھینکے جانے والا سیوریج اور ٹھوس فضلہ بچی کُچی آبی مخلوق کا خاتمہ کردیگا اور دریاؤں کو گندے نالے میں تبدیل کردے گا-

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں جہلم طاس پر تعمیراتی کاموں نے دریاؤں کے بہاؤ اور دریائی مٹی کے نظام کو ناقابل تلافی حد تک تبدیل کردیا ہے- اس پر مزید یہ کہ تعمیراتی کاموں میں اضافہ کی وجہ سے دریاؤں کی تہہ سے ریت، بجری اور پتھر بےدریغ نکالے جا رہے ہیں جو دریاؤں کے ساتھ موجود شہروں اور گاؤں کے لئے تعمیراتی میٹریل کا سب سے سستا وسیلہ ہیں-

بھاری مشینری کے ذریعہ دریا کی تہہ کی کھدائی ایک منافع بخش کاروبار ہے لیکن اس سے پہنچنے والے نقصان پر غور کیجیے- دریائی ماحولیاتی نظام کی تباہی ایک طرف، دریا کے کنارے لگی لاتعداد پتھر کوٹنے والی مشینیں باریک ذرّات چاروں طرف بکھیرتی ہیں- آس پاس کی آبادیوں میں پھیپڑوں کے امراض اپنے عروج پر ہیں- دن رات چلنے والی مشینوں اور گاڑیوں کے شور کی وجہ سے علاقہ مکینوں کے آرام میں خلل پہنچتا ہے- ماحولیاتی تحفظ کے ادارے، مقامی حکام، اور عوامی مفاد کے قانونی اداروں تک انکی شکایات کوئی معنی نہیں رکھتیں- ٹھیکیدار پیسے کے زور پر اپنا راستہ نکال لیتے ہیں-

اسکا حل کیا ہے؟

کیا اس مسئلہ سے نکلنے کا کوئی حل ہے؟ دلچسپ بات یہ کہ اپنے تمام لالچ کے باوجود ہم اپنے دریاؤں کی ریت، بجری اور پتھروں کا ایک چھوٹا حصّہ استعمال کررہے ہیں، جوکہ کشمیر میں جہلم کے ایک ذیلی دریا، دریاۓ پونچ پر واقع گلپور ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے انوائرنمنٹل سوشل امپیکٹ اسسمنٹ  Environmental Social Impact Assessment (ESIA)کی رپورٹ کے مطابق، پانچویں حصّے سے بھی کم-

سائنسی منصوبہ بندی اور کانکنی کے آپریشن کے مناسب انتظامات کے ذریعہ، آبادیوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور ساتھ ہی آبی ماحول کو کم سے کم نقصان پنہچانا واقعی ممکن ہے- بہرحال اس کے لئے تلچھٹ ماہرین، پتھروں کی ساخت کے ماہرین، ماہرین ماحولیات، آبی ماہرین، کانکنی کے ریگولیٹرز اور کمیونٹی کے مابین مربوط کوشش درکار ہے- ایسا ہی ایک تلچھٹ کھدائی کا منصوبہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں، دریاۓ پونچ کے لئے تیار کیا جارہا ہے، جہاں مقامی اور بینالاقوامی ماہرین مل کر دیرپا ترقی کے فریم ورک میں رہتے ہوۓ حل تلاش کریں گے- یہ کاوشیں سائنسی مطالعوں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت پر مبنی ہونگی- نتیجہ کے طور پر، ایک ایسا لائسنسنگ اور انضباطی نظام متوقع ہے جو کمیونٹی پر مبنی ہوگا، مقامی ذریعہ معاش سے بخوبی آگاہ ہوگا، اور جو حدود مقرر کرے گا کہ دریا کے کس حصّے اور سال کے کس وقت ریت، بجری اور پتھروں کی کھدائی کی جاسکتی ہے-

لائسنسنگ سے حاصل ہونے والے ریونیو کا کچھ حصّہ کمیونٹی سسٹم کے انتظامات چلانے کے لئے استعمال کرے گی جبکہ باقی دریائی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے- ممکن ہے یہ سب غیر حقیقی لگے، بہرحال ممکن ہے کہ یہ اقدام ایک مثال قائم کرسکے کہ کس طرح ہمیں اپنے دریاؤں کے ساتھ رہنا ہے اور انکا احترام کرنا ہے- یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ایسا ماڈل بن جاۓ جسکی دوسرے بھی پیروی کریں-

 

وقار زکریا، پاکستان اور خطّے میں توانائی اور ماحولیاتی مینجمنٹ میں ٣٥ سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں- انہوں نے توانائی کے انفراسٹرکچر، توانائی کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے پالیسی سازی اور توانائی کے منصوبے تیار کرنے میں پلاننگ کمیشن، وزارت توانائی، ریاستی یوٹیلیٹیز، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور نجی سیکٹر کے لئے کام کیا ہے- سال ١٩٩٠ میں زکریا صاحب مشاورتی کمپنی ہیگلر بیلی پاکستان قائم کرنے میں مددگار رہے، جہاں وہ ادارے کے تمام معاملات کی نگرانی کرتے ہیں-

وقار زکریا

2 comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.