پرویز ہود بھائی کے گھر کی چھت نسب دو اعشاریہ آٹھ کلو واٹ کی کیپیسٹی والے ١٠ فوٹوولٹیک سولر پینل اتنی برقی توانائی پیدا کرتے ہیں گرمیوں میں دن کے وقت ایک ایئر کنڈیشنر، بجلی کے بلب، ریفریجریٹر اور بعض دوسرے گھریلو آلات آرام سے چل جاتے ہیں- ان کے پاس شمسی توانائی سے چلنے والا گیزر بھی ہے جو "اسلام آباد کی سرد ترین راتوں میں بھی” گرم پانی مہیا کرتا ہے- ماہر طبیعات کا ماننا ہے کہ مناسب طریقے سے بناۓ گۓ گھروں سے بڑی مقدار میں توانائی کی بچت ممکن ہے- انکا گھر ہوادار ہے اور مناسب طریقے سے انسولیٹڈ ہے جو گرمیوں میں گھر کو "کافی ٹھنڈا” اور سردیوں کے دوران "مناسب حد تک گرم ” رکھتا ہے-

دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران پرویز ہود بھائی نے بتایا کہ اپنی طرف سے کاربن اثرات کو کم کرنے کے لئے انہوں نے طرز زندگی میں ذاتی سطح پرکیا تبدیلیاں کیں، ساتھ ہی پاکستان کی توانائی کے تحفظ سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا-

کیا آپکا گھر اور اس میں موجود تمام بجلی کے آلات، شمسی توانائی پر چلتے ہیں؟

پرویز ہود بھائی : نہیں شمسی توانائی سے ہماری تمام ضروریات پوری نہیں ہوتیں لیکن بجلی کی ساٹھ فیصد تک اور گرم پانی کی نوے فیصد ضرورت پوری ہوجاتی ہے-

شمسی توانائی کے ساتھ آپ دیگر کونسے اضافی ایندھن کے وسائل استعمال کرتے ہیں؟ کیا ابرآلود دن بہت زیادہ ہوتے ہیں؟

پرویز ہود بھائی : ہم کھانا پکانے کے لئے مہینے میں ایک بار گیس سلنڈر خریدتے ہیں، اور رات کے وقت گرڈ کی بجلی استعمال کرتے ہیں- سال کے ٣١٠ دن ہمیں شمسی توانائی سے بجلی اور گرم پانی آرام سے مل جاتا ہے-

آپکا ماہانہ بجلی کا بل کتنا آجاتا ہے؟

پرویز ہود بھائی: کافی زیادہ آجاتا ہے! میرے خیال سے میٹر کنکشن میں کوئی خرابی ہے اور مجھ میں اتنی برداشت نہیں کہ جاکر اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے پاس جاؤں اور بحث میں پڑوں- جو شمسی توانائی پیدا ہوتی ہے وہ ہمارے روزانہ استعمال سے شاید زیادہ ہوتی ہے- بہرحال، اس میں سے زیادہ تر ضائع ہوجاتی ہے کیونکہ مجھے اضافی بجلی گرڈ کو واپس لوٹانے کی اجازت نہیں-

افسوس کی بات ہے- کیا ایسا کوئی حل ہے؟

پرویز ہود بھائی : بالکل ہے..! یورپ، امریکا اور چین میں اضافی شمسی بجلی گرڈ کو واپس لوٹا دی جاتی ہے اور صارف کو بجلی کی صرف نیٹ مقدار استعمال کے لئے چارج کیا جاتا ہے- اسے "ریورس میٹرنگ ” کہتے ہیں- اور اگر استعمال کے مقابلے میں زیادہ بجلی پیدا ہورہی ہے تو آپکو اس کی نقد ادائیگی کی جاتی ہے- میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں ریورس میٹرنگ کی پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے اور کچھ لوگ اس سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں- لیکن اسکا وسیح پیمانے پر استعمال اس لئے نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے اسپیشل میٹر درکار ہوتے ہیں– یہ میٹر گرڈ سے آنے والی بجلی اور گرڈ کو واپس جانے والی بجلی دونوں ناپتے ہیں-

کیا آپکی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی اپنا گھر شمسی توانائی پر چلانے کی کوشش کی؟

پرویز ہود بھائی: بہت سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا اور میرے علم کے مطابق کچھ نے ایسا ہی سسٹم خریدا ہے- شمسی گیزر خاصے سستے ہوتے ہیں اور میں نے اکثر گھروں کی چھتوں پر نصب دیکھے ہیں- مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ گیس گیزر کیوں استعمال کرتے ہیں جوکہ مہنگے بھی پڑتے ہیں جبکہ ہمارے پاس سستا، ماحول دوست متبادل آسانی سے موجود ہے-

کیا شمسی سیل، بیٹریز وغیرہ کو دیکھ بھال کی بہت زیادہ ضرورت پڑتی ہے؟

پرویزہود بھائی: تنصیب کے چار سال بعد چھت پر لگے پینلز سے دھول مٹی صاف کرنے کے لئے دھلائی اور کنٹرول پینل کو ہوا دینے کی ضرورت پڑی- شمسی گیزر میں سردی کے دنوں میں اضافی حرارتی نظام کے لئے ایک بجلی کی راڈ ہے وہ ایک بار جل گئی تھی جو کم قیمت پر بآسانی تبدیل ہوگئی- بیٹریز چار سال تک چلی ہیں اور ابھی تک چل رہی ہیں لیکن ممکن ہے ایک دو سال میں انہیں تبدیل کرنا پڑے- انہیں رات میں استعمال کیا جاتا ہے یا تب جب گرڈ کی بجلی چلی جاۓ— جوکہ اکثر ہی ہوتا ہے-

کیا آپ کے خیال میں جوہری عمل کے مقابلے میں سورج سے توانائی حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے؟

پرویز ہود بھائی : اسکی وجوہات نہایت واضح ہیں- شمسی توانائی، جوہری توانائی سے زیادہ محفوظ اور تیل اور گیس سے زیادہ سستی ہے- اگر جوہری توانائی پر ہونے والے تمام اخراجات کا اندازہ لگائیں تو ہمیں سستی نہیں پڑتی- یہ بات کہ شمسی توانائی صرف دن کے وقت استعمال ہوسکتی ہے تو توانائی اسٹور کرنے کے لئے بہتر انتظام کی ضرورت ہے اور اس کے لئے زیادہ توانائی محفوظ کرنے والی بیٹریاں بنائی جارہی ہیں، ساتھ ہی بڑے پیداواری اسٹیشنز کے لئے موزوں ٹیکنیکس بھی-

آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے چوتھے جوہری پاور پلانٹ نے گزشتہ ماہ سے کام شروع کردیا ہے- کیا وجہ ہے کہ پاکستان نیوکلیئر ری ایکٹر جیسے مہنگے متبادل پر سرمایہ کاری کررہا ہے؟

پرویزھود بھائی: ہم اسی پر خوش ہولیتے ہیں اور ساتھ ہی شکر کرتے ہیں کہ اب تک کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا- آخر کو ہمیں بجلی کی ضرورت تو ہے- ساتھ ہی یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ایٹمی تابکاری کا واقعات ہم سے چھپاۓ نہیں جائیں گے- مزید یہ کہ جوہری پلانٹس کا اقتصادی جواز مجھے سمجھ نہیں آتا- ہم جوہری بجلی کا انتخاب اس لئے کررہے ہیں کیونکہ چین ہمیں اپنے ری ایکٹرز بیچنے کا خواہاں ہے- ہم چینی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے واحد کسٹمر ہیں- چین نے پاکستان کو نیوکلیئر پاور پلانٹ (KANUPP ) کے لئے اسی فیصد قرضہ دیا ہے-

آپ نے کبھی چشمہ پاور پلانٹ پر کھل کر تنقید نہیں کی لیکن کراچی کے نزدیک بننے والے دو نیوکلیئر ری ایکٹرز پر آپکو کافی اعتراض ہے، ایسا کیوں؟

پرویزھود بھائی : فکوشیما میں سونامی کے بعد پلانٹس میں جو تباہی ہوئی، اس سے یہ واضح ہے کہ شہروں کے نزدیک نیوکلیئر پاور پلانٹس محفوظ نہیں- اگر KANUPP میں کسی قسم کے حادثے کی صورت میں سوچیں کراچی کا کیا حال ہوگا- فکوشیما اسی ہزار منظم نفوس پر مشتمل چھوٹا سا ٹاؤن تھا جبکہ کراچی کی آبادی بائیس ملین ہے جن میں سے اکثریت ٹریفک سگنل توڑنے سے نہیں ہچکچاتے- نظم و ضبط کے ساتھ ان کا انخلا ناممکن ہے- اور پھر نکل کر جائیں گے کہاں- کسی قسم کی تباہی کے لئے سونامی ضروری نہیں– دہشتگردی، سبوتاژ، زلزلہ یا کسی آپریٹر کی غلطی (

جیساکہ سنہ ١٩٨٦ میں چیرنوبیل میں ہوا ) ہمیں لے ڈوبے گی-

لیکن ٹیکنالوجی میں بہتری اور محفوظ میکانزم کے ساتھ کیا آپ کے خیال میں پاکستان کو نیوکلیئر توانائی کا انتخاب کرنا چاہیے؟

پرویزھود بھائی : گلوبل نیوکلیئر انڈسٹری کا مقصد محفوظ ری ایکٹرز بنانا ہے- لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ ان تمام امکانات کی پیشنگوئی نہیں کرسکتے جو تباہ کن ثابت ہوں- ایک عام ری ایکٹر `کور میں استعمال ہونے ایندھن ہزار ایٹم بم سے زیادہ ایٹمی مواد رکھتا ہے- اگرچہ ایٹمی ری ایکٹر، ایٹم بم کی طرح نہیں پھٹ سکتا لیکن اس سے پیدا ہونے والی تابکاری ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرنے والے بموں سے ہزار گنا زیادہ ہوگی- اور جہاں تک ہمارے آپشنز کا سوال ہے، پاکستان نیوکلیئر پاور ری ایکٹر نہیں بناتا- یہ ہماری تکنیکی صلاحیتوں سے آگے ہے- بم بنانا بہت آسان ہے اور وہ ہم کافی بنا رہے ہیں-

صاف، سستی جوہری توانائی کو اکثرماحولیاتی تبدیلی سے مقابلے کا ذریعہ گردانہ جاتا ہے- لیکن کیا ہمارے نیوکلیئر پلانٹ صاف، ماحول دوست ذرائع کے زمرے میں آتے ہیں؟

پرویزھود بھائی : ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ شمسی اور ہوائی توانائی، بجلی کے مؤثر گرڈ اور بجلی کے زیاں کو کم کرنے سے ممکن ہے- اور اگر نیوکلیئر پلانٹس کی تیاری پر آنے والی کاربن لاگت کو دیکھا جاۓ تو سستے جوہری ایندھن سے ہونے والی بچت بہت کم ہے-

اور اگر ہم تھوریم ری ایکٹر استعمال کریں؟ یا ابھی تک یہ تعلیمی بحث تک ہی محدود ہے؟

پرویزھود بھائی : بھارت میں پچھلے چالیس سالوں سے اسکی منصوبہ بندی بندی`ہورہی ہے- تھوریم ری ایکٹرز سے اب تک کوئی بجلی نہیں بنائی جاسکی- کسی بھی صورت میں پاکستان اسکا انتخاب نہیں کرسکتا کیوں کہ ایک تو ہمارے پاس تھوریم کے ذخائر نہیں دوسرے پاکستان کے پاس جوہری پاور پلانٹ بنانے کی صلاحیت نہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.