ایک طرف کراچی والوں کے لئے پانی کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے، دوسری جانب پانی مافیا خاموشی کے ساتھ حکومت کی جگہ لیتا جا رہا ہے- کم و بیش 17 ملین پر مشتمل پاکستان کے گنجان آباد شہر کو پانی کی بڑی مقدار درکار ہے- دس ہزار فیکٹریوں کا صنعتی مرکز، شہرِ کراچی ملک کی پچانوے فیصد برامدات بھی سنبھالتا ہے- اس درجہ بڑی طلب کا مطلب شہر میں پانی کا شدید بحران ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے-

مچھر کالونی کراچی کی غیر رسمی آبادکاریوں میں سے ایک ہے- یہاں بھی پانی کی قلّت ہے- "میں نے کبھی اپنی زندگی میں پانی کی اتنی قلّت نہیں دیکھی”، علاقے کے ایک بزرگ رہائشی عبدل ستار نے کہا. "پانی کی کمی تو ہے ہی اس کے ساتھ پانی کی کوالٹی کا بھی مسئلہ ہے-"

"حد یہ ہے کہ بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود پانی کا معیار ٹھیک نہیں "، پانی کے انتظامات پر کام کرنے والی حصار فاؤنڈیشن کے سونو کھنگرانی کہتے ہیں-

ایسا نہیں کہ صرف غریب ہی متاثر ہورہے ہیں- "صنعتوں کے لئے پانی خام مال ہے لیکن حکومت نے اسکی قیمت کئی سو گنا بڑھا دی ہے، جسکی وجہ سے برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں”، سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ کے پریذیڈنٹ اسد ناصر نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا-

خستہ حال انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی آبادی:

تقریباً٨٠ فیصد آبادی کو دس ہزار کلومیٹر پر مبنی پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعہ پانی گھروں میں پنہچایا جاتا ہے باقیوں کو ٹینکر کے ذریعہ- پانی ضائع ہونے کی ایک بڑی وجہ لیکیج ہے- بدقسمتی سے حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے جو پانی مہیا کیا جاتا ہے اسکی قیمت دو سو سے پانچ سو روپے کے بیچ (یعنی USD 1.91 سے 4.78 USD ) ہے، جسکا مطلب یہ ہے کہ اتنا ریونیو ہی نہیں حاصل ہوتا کہ خستہ حال نظام کی مرمّت کروائی جاسکے-

لیکیج کی وجہ سے سسٹم میں موجود تقریباً پچیس فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے، جسکی وجہ سے ہم کئی علاقوں میں پانی پنہچانے سے قاصر ہیں”، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (KWSB ) کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین کہتے ہیں-

کھنگرانی اس بات سے اتفاق کرتے ہوۓ کہتے ہیں، ” شہر کا زیر زمین پائپ لائن نظام فرسودہ ہوچکا ہے، پچھلے پچیس سالوں میں پانی کی کوئی پائپ لائن نہیں ڈالی گئی جبکہ شہر کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے-"

"جتنی تیزی سے کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے اس کے انتظامات کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے- چاہے آپ جتنی بھی اسکیمیں لے آئیں، آبادی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور نۓ صنعتی یونٹس بنتے جارہے ہیں”، فرید صاحب نے تائید کی- حقیقت یہ ہے کہ KWSB شہر کے نواحی علاقوں میں موجود دو سے تین ملین افراد کو پانی سپلائی کرتا ہے جوکہ ایک اضافی بوجھ ہے-

پانی مافیا

پانی کی فراہمی میں حکومتی ناکامی نے پانی مافیا کے لئے راہ ہموار کردی ہے- ٹینکرز شہر میں پانی کا کوئی بیس فیصد حصّہ سپلائی کرتے ہیں بشمول ان کے جنہیں پہلے ہی KWSB سے پانی فراہم ہوتا ہے تاکہ کمی کو پورا کیا جاسکے- ان ٹینکرز کو ایک ماہ کی سپلائی کے لئے کوئی چھ سے دس ہزار روپے ( 57 USD سے 95.50 USD) تک ادا کیے جاتے ہیں، یا حکومتی چارجز سے تیس گنا زیادہ، لیکن لوگ یہ رقم بخوشی ادا کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں-

عام اندازے کے برعکس، بعض اوقات سپلائی متمول علاقوں میں ناقص اور درمیانے درجے کے علاقوں میں زیادہ بہتر ہے. اسکی بنیادی وجہ پہلے سے قائم شدہ انفراسٹرکچر کا معیار ہے- ” ہم ٹینکر سے پانی منگواتے ہیں لیکن بعض اوقات پانی کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی. اکثر بڑی رقم ادا کرنے کے باوجود گھنٹوں ٹینکرز کا انتظار کرنا پڑتا ہے-” کلفٹن بلاک آٹھ کی رہائشی زبیدہ کہتی ہیں- یہ شہر کا ایک متمول علاقہ ہے لیکن یہاں KWSB کی طرف سے پانی کی فراہمی باقائدگی سے نہیں ہوتی-

بہرحال، صدر ٹاؤن جیسے کمرشل علاقوں میں اکثریت رہائشیوں کو پانی کی فراہمی KWSB سے باقاعدہ ہوتی ہے- ” ہم عموماً ہر ماہ ڈھائی سو روپے ( 2.39 USD ) ادا کرتے ہیں اور KWSB روزانہ دو گھنٹے پانی سپلائی کرتا ہے، پانی کا معیار بھی برا نہیں ہوتا”، ایم. اے. جناح روڈ پر واقع ایک پلازہ کے رہائشی محمّد ہارون نے بتایا-

کچی آبادیوں کی حالت دونوں قسم کے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ خستہ ہے یہاں مناسب انفراسٹرکچر نہیں ہے اور رہائشیوں کی مالی حالت بھی ٹھیک نہیں- اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی اسٹڈی کے مطابق، کچی آبادیوں کے رہائشی، خوشحال علاقوں کے مقابلے میں تیرہ گنا زیادہ پیسے دیتے ہیں-

غیر قانونی ہائیڈرنٹس سے لے کر غیر قانونی ٹینکرز تک

غیر قانونی ہائیڈرنٹس، مرکزی سپلائی سے پانی نکالتے ہیں- تقریباً دس ملین گیلن پانی سسٹم سے روزانہ چرایا جاتا ہے- پھر یہ چوری شدہ پانی ٹینکرز کے ذریعہ علاقوں کو سپلائی کیا جاتا ہے- یہ لوگ ٹینکرز کے ذریعہ پانی کے غیر سرکاری اور بے ضابطہ سپلائر بن بیٹھے ہیں- سندھ کی صوبائی حکومت نے کئی بار ان غیر قانونی ہائیڈرنٹس کےخلاف آپریشن کیا اور انکی تنصیبات کو ختم کیا- لیکن کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد یہ غیر قانونی کاروبار پھر سے شروع ہوجاتا ہے-

کھنگرانی نے بتایا کہ غیر سرکاری ٹینکرز اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کراچی سے سالانہ ستاون بلین (USD 540 ملین ) مالیت کا پانی چوری کرلیتے ہیں”، – لیکن سندھ گورنمنٹ کے کامیاب آپریشنز کے باوجود خاص فرق نہیں پڑتا- بدعنوان پولیس افسر آپریشن سے پہلے ہی پانی کے اسمگلرز کو خبردار کردیتے ہیں- ان سب کے باوجود، حال ہی میں KWSB نے کامیابی کے ساتھ کچھ علاقوں جیسے لانڈھی اور ملیر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کا خاتمہ کیا ہے-

” ان تمام مشکلات کے باوجود ہم اس اقدام کو کامیاب بنانے کے لئے کوشاں ہیں- شہر کے نواحی علاقوں جیسے منگھوپیر اور ناردرن بائی پاس کے علاقوں میں لوگ بڑی تیزی سے ہائیڈرنٹس لگا لیتے ہیں- بدقسمتی سے علاقہ پولیس ان کارروایوں سے باخبر ہونے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کرتی- ہماری ناکامیابی کے پیچھے یہ ایک بڑی وجہ ہے،” فرید صاحب نے کہا-

ان کے دعوے کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مجرموں کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، ناہی عدالتوں میں یہ کیسزکسی منطقی انجام کو پنہنچ پاتے ہیں-

ٹینکرز مسئلے کا حل ہیں یا وجہ ؟

آل کراچی واٹر ٹینکرز اتحاد کے پریذیڈنٹ محمّد طارق سدوزئی شہر میں ٹینکرز کا جواز پیش کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ شہر کے لئے پانی کی مطلوبہ مقدار سسٹم میں موجود ہے لیکن KWSB پانی شہریوں تک پنہچانے سے قاصر ہے- ” چناچہ ہم یہاں شہریوں کی مدد کے لئے موجود ہیں، ہم ہائیڈرنٹس نہیں چلاتے، ہمارا کام صرف پانی کی ترسیل ہے – اور جہاں ضرورت ہوہم ہائیڈرنٹس سے لے کر پانی مطلوبہ علاقے تک پنہچاتے ہیں، زیادہ تر ہائیڈرنٹس با رسوخ لوگ چلاتے ہیں جنکو KWSB کی حمایت حاصل ہے”، انہوں نے بتایا-

قیمتوں میں واضح فرق کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ قیمتوں کا تعین ہائیڈرنٹس والے کرتے ہیں- سدوزئی کا کہنا ہے کہ چونکہ حکام ان ہائیڈرنٹس کو بند کرنے میں ناکام رہے ہیں چناچہ بہتر یہ ہے کہ انہیں قانونی حیثیت دے دی جاۓ اور KWSB ریونیو کا ایک حصّہ متعین کردے-

ہائیڈرنٹس مالکان کے اپنے جواز ہیں- ایک ہائیڈرنٹ کے مالک نے دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ پانی کی طلب اس لئے ہے کیونکہ KWSB ڈیمانڈ پوری کرنے سے قاصر ہے- اسی لئے با رسوخ افراد نے غیر قانونی ہائیڈرنٹس لگاۓ ہیں، ” ہم پانی کا انتظام کرتے ہیں، رشوت دیتے ہیں تاکہ یہ ہائیڈرنٹس آرام سے اپنا کام کرتے رہیں اور یہ سب اس لئے کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی ممکن ہو-"

A water hydrant, or stand-post, in Kolkata [image by Eric Parker/Flickr]

  [کلکتہ میں ایک واٹر ہائیڈ رنٹ یا اسٹینڈ پوسٹ. [ایرک پارکر کی امیج /فلیکر

خطّے کا مسئلہ :

پانی کے مسائل، فراہمی کی قلّت سے لے کر غیر قانونی ہائیڈرنٹس، پانی مافیا اور عوام کی خدمات جیسے دعووں تک صرف کراچی کا مسئلہ نہیں- بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کی بھی یہی صورتحال ہے- وہاں کا پانی مافیا بھی اپنی کارروائیوں کا جواز پانی کی مؤثر ترسیل میں حکومتی ناکامی اور خاص کر کچی آبادیوں میں انفراسٹرکچر نہ ہونے کوقرار دیتا ہے-

بھارت کے مشرق میں ریاست مغربی بنگال کا دارلحکومت کبھی پانی سے مالامال شہر سمجھا جاتا تھا اب رفتہ رفتہ وہاں بھی پانی کی قلّت ہوتی جا رہی ہے، وجہ؟ خستہ حال انفراسٹرکچر اور غیر قانونی اسٹینڈ-پوسٹس (کلکتہ میں پانی کے ہائیڈرنٹس کو کہا جاتا ہے) کا پھیلاؤ- ان تمام شہروں میں پانی کے پرانے، فرسودہ انفراسٹرکچر، بدعنوان سیاست اور بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے ساتھ پانی کی مزید طلب نے ملکر ایک ناگفتہ با صورتحال پیدا کردی ہے-

اب تک اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا جاسکا بہرحال بعض لوگ واٹر ٹینکرز والوں کے خیالات سے متفق ہیں کہ موجودہ حالات میں بہترین حل یہ ہے کہ غیر قانونی ترسیل کو قانونی حیثیت دی جاۓ اور اس سے حاصل ہونے والے ریونیو سے انفراسٹرکچر کی تعمیر و مرمّت کی جاۓ- شہری منصوبہ ساز اور مصنف نعمان احمد کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کو چاہیے ان واٹر ٹینکرز کو اپنے دائرہ کار میں لاۓ، اسے ایک تجارتی حیثیت دے اور سرکاری طور پر ریگولیٹ کرنے کا راستہ تیار کرے- اس طرح شہر لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے جو جدوجہد کررہا ہے اس میں غیر قانونی عناصر کو کم کرنے میں مدد ملے گی-

ذولفقار کنبھر کراچی کے واٹر جرنلسٹ ہیں- اور @ZulfiqarKunbhar پر ٹویٹ کرتے ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.